زہری میں بلوچ نسل کشی کے خلاف احتجاجی ریلی میں ریاستی رکاوٹیں، انٹرنیٹ بند

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) کی جانب سے بلوچ نسل کشی کے خلاف احتجاجی ریلی میں ریاستی رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں اور انٹرنیٹ بندکردی گئی۔

آج بروزبلوپیر کوجب ریلی نکالی گئی تو ریاستی اداروں کی جانب سے ریلی کو روکنے کی کوششیں کی گئی۔

پورے علاقے میں انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے اور زہری کراس پر تمام گاڑیوں کو روک لیا گیا ہے۔

آس پاس کے علاقوں سے آنے والے افراد کو زہری کراس پر روک کر واپس بھیج دیا گیا۔

جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کے لواحقین نے ریلی سے خطاب کیا اور اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ۔

اس سے قبل ریلی کے شرکا کا کہنا تھا کہ ہم ریاستی اداروں کو واضح طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے کسی بھی دوست کو کوئی تکلیف یا نقصان پہنچا، تو اس کی تمام تر ذمہ داری ریاستی اداروں اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ ہم 30 منٹ کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ اگر ہمارے دوستوں کو زہری کراس سے فوراً آزاد نہیں کیا جاتا، تو ہم سوراب اور خضدار کے علاقوں سے مین آر سی ڈی روڈ کو بند کر دیں۔ گے.

اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافے کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے اعلان کردہ احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں بی وائی سی زہری اور عوام الناس نے احتجاجی ریلی نکالی۔

ریلی ہسپتال روڈ سے شروع ہو کر اللہ والا چوک تک پہنچی۔

تاہم، نیم فوجی دستوں (ایف سی) اور ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان نے سڑکوں کو بند کر دیا اور ریلی کو آگے بڑھنے میں رکاوٹ ڈالی۔

پورے علاقے میں انٹرنیٹ بھی بند کر دیا گیا۔

رکاوٹوں کے باوجود خواتین، بچوں اور متاثرہ خاندانوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ ریلی میں شامل ہوئے اور بلوچ نسل کشی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی پرامن احتجاج کے خلاف رکاوٹیں ڈالنے، ہراساں کرنے اور تشدد کے استعمال کی مذمت کرتی ہے۔ اپنے حقوق کے لیے اجتماع کی آزادی ایک بنیادی حق ہے اور بلوچ قوم جاری نسل کشی کے خلاف پرامن مزاحمت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

Share This Article