جرمنی میں فریڈرک مرز کی قدامت پسند جماعت کرسچن ڈیموکریٹس نے انتخابات میں واضح سبقت حاصل کر لی ہے۔
اس کامیابی کے باوجود جماعت کو جو امید تھی وہ کامیابی نہ مل سکی۔ اس جماعت کو 30 فیصد سے بھی کم ووٹ ملے ہیں۔
فریڈرک مرز جن کی اب جرمنی کے چانسلر بننے کی راہ ہموار ہو چکی ہے اس وقت قائد حزب اختلاف ہیں۔
فریڈرک مرز نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج رات ہمیں جشن منانا چاہیے مگر صبح ہم سب کام پر چلے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ان چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہیں جن کا انھیں آگے سامنا کرنا ہے۔
ان انتخابات میں دوسرے نمبر پر اکثریت حاصل کرنے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ یعنی اے ایف ڈی ہے، جسے 20.8 فیصد ووٹ ملے۔
اس جماعت کی طرف سے چانسلر کی امیدوار ایلس ویڈل نے اپنے حامیوں کی طرف جیت کا نشان بنایا اگرچہ ان کی جماعت کو اس سے کہیں زیادہ ووٹ ملنے کے امکانات تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت اے ایف ڈی کے مرکزی دفتر میں سوگ جیسا ماحول ہے۔
مشرقی جرمنی میں اے ایف ڈی کو واضح سبقت حاصل ہوئی ہے۔
ایلس ویڈل نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ جرمنی کے عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فریڈرک مرز کی طرف سے اتحاد بنانے کی کوئی بھی کوشش ناکامی پر منتج ہوگی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم دوبارہ انتخابات کرائیں گے، مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں مزید چار برس انتظار کرنا ہوگا۔‘
تین سیاسی جماعتوں، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، فری ڈیموکریٹک پارٹی، اور گرینز کے درمیان طے پانے والا یہ اتحاد جرمنی کے اب تک کے بدترین معاشی اور حفاظتی چیلنجز اور آپسی نظریاتی اختلاف کے نتیجے میں ٹوٹ گیا تھا۔
اولاف شولز نے اپنے لبرل خیال کیے جانے والے وزیر خزانہ اور ایف ڈی پی پارٹی کے کرسچن لنڈنر کو بجٹ پر اختلاف ہونے کی وجہ سے نکال دیا تھا۔
شولز نے پھر پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا مگر وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں 23 فروری کے لیے سنیپ الیکشن کا انعقاد کیا گیا۔
یہ انتخابات دراصل گذشتہ برس ستمبر میں ہونے تھے مگر اتحادی جماعتوں میں اختلاف کے نتیجے میں ان الیکشن کو کچھ عرصے کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ برلِن یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ آبادی پر مشتمل ریاست بھی ہے۔ برلن کے سیاسی اور معاشی معاملات کا اثر پورے یورپی اتحاد پر پڑتا ہے۔
ان انتخابات سے قبل قدامت پسند فریڈرک مرز نے ووٹرز سے یہ اپیل کی تھی کہ انھیں واضح برتری چاہیے تا کہ وہ ایک پارٹی کے اتحاد سے حکومت بنا سکیں۔ انھوں نے یہ کہا تھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ چیز اگلے چار برس میں انھیں جرمنی کو درپیش مسائل حل کرنے میں مدد دے گی۔
ان انتخابات میں ٹرن آؤٹ 83 فیصد رہا جو کہ 1990 میں دیوار برلن کے انہدام اور منقسم جرمنی کے اتحاد کے بعد سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ہے۔
فریڈرک مرز کی جماعت کو اپنی اتحادی جماعت باوارین کے ساتھ مل کر 28.6 فیصد سے کہیں زیادہ ووٹوں کی توقع تھی مگر ایسا ہو نہ سکا۔ فریڈرک مرز نے اے ایف ڈی کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
جرمنی میں مرکزی دھارے کی جماعتوں کا انتہا پسند جماعتوں سے اتحاد کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔
فریڈرک مرز کے ممکنہ اتحادی سوشل ڈیموکریٹس کو صرف 16.4 فیصد ووٹ حاصل ہو سکے۔
چانسلر اولف شیلز نے کہا ہے کہ ان انتخابات میں ان کی جماعت کو بدترین شکست ہوئی ہے اور اب وہ اتحادی حکومت بنانے سے متعلق مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔
69 برس کے فریڈرک مرز کبھی کسی اہم حکومتی عہدے پر نہیں رہے مگر ان کا یہ کہنا ہے کہ اگر وہ چانسلر بنے تو پھر وہ یورپ کی قیادت کریں گے اور یوکرین کے لیے بھرپور حمایت حاصل کریں گے۔
اے ایف ڈی پارٹی کے امریکی ارب پتی ایلون مسک اور امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی کھلی حمایت دیکھ کر بہت سے جرمن شہری دنگ رہ گئے۔ امریکی نائب صدر پر تو میونخ میں ان کے دورے کے دوران جرمنی کے انتخابات میں مداخلت جیسے الزامات بھی عائد ہوئے۔
اس سے اے ایف ڈی کو کوئی زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔ گذشتہ چار برس کے مقابلے میں ایلس ویڈل کی جماعت کو دس پوائٹ زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ ان کی کامیابی کے پیچھے ٹک ٹاک والا عنصر بھی تھا جہاں سے انھیں زیادہ نوجوان ووٹر ملے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فریڈرک مرز پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان انتخابات کے نتائج سے واضح ہو گیا ہے کہ جرمن عوام بھی امریکی عوام کی طرح خصوصاً انرجی اور امیگریشن جیسی غیر واضح پالیسیوں سے تنگ تھے۔