بلوچستان کے علاقے بارکھان سے پاکستانی فورسز نے 5 افراد جبراً لاپتہ کردیئے جبکہ تربت سے ایک لاپتہ نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔
بارکھان سے اطلاعات ہیں کہ 19 فروری کی صبح 4 بجے فورسز نے گھروں میں گھس کر 5 افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ کئے گئے افراد کی شناخت حاجی غلام فرید ولد حاجی رمضان ،خالد ولد سردار خان ، امام بخش ،سردار خان ا ور غلام رسول ولد حاجی نظام الدین کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
فیملی کا کہنا ہے کہ صبح 4 بجے کے قریب ایف سی کے اہلکاروں نے چادر و چار دیواری پامال کرتے ہوئے گھر میں گھس آئے اور بچوں کو ہراساں کیا، گھر میں توڑ پھوڑ کی اورحاجی غلام فرید، غلام رسول، امام بخش ، خالد اور سردار خان کو جبری طور پر اپنے ساتھ لیے گئے ۔
ان کا کہنا ہے کہ فورسز نے سب کوگذشتہ 4 دن سے اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے جس سے ہم اذیت کا شکار ہیں۔
لواحقین نے انکی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے ۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے ڈنک سے فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکارزرین بلوچ بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیاہے۔
فیملی ذرائع نے نوجوان کی بازیابی تصدیق کردی ہے۔
واضع رہے کہ زرین بلوچ کو نعمان کلینک سے جمعہ کی شب 9 بجے کے قریب گاڑی سوار نامعلوم افراد نے کلینک سے اسلحہ کے زور پر جبری اغوا کیاتھا۔
زرین بلوچ نعمان کلینک کے انچارج اور کمپوڈر ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق دو گاڑیوں پر سوار افراد جو مسلح تھے نے زرین کوزبردستی گاڑی میں ڈالا اور نامعلوم جگہ پر لے گئے۔