بلوچستان کے علاقے خاران سے اطلاعات ہیں کہ نامعلوم مسلح افراد نے شہر میں واقع آئی ائس آئی کے دفتر کو یکے بعد دیگرے تین بم حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ آج بروز ہفتہ کو کچھ کچھ دیر قبل خاران شہر میں 3 دھماکوں کی آوازیں سنی گئی۔
ذرائع کے دعوے کے مطابق دھماکوں کا نشانہ شہر کے مرکز میں واقع سیکریٹریٹ روڈ (ریڈ زون) پر قائم پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا دفتر تھا۔
آئی ایس آئی کے دفتر پر حملہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب آئی جی ایف سی کی خاران آمد متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق حملے کے بعد فورسز کی جانب سے فوری نکل و حرکت سمیت اندھا دھند فائرنگ کی گئی ہے۔
علاقائی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے زیر استعمال مذکورہ دفتر چند سال قبل قائم کیا گیا ہے اور اس سے پہلے یہ عمارت بیچلر لاج کے نام سے جانا جاتا تھا۔
علاقہ مکین دعویٰ کرتے ہیں کہ خاران میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے دفاتر کے قیام کے بعد سے علاقے میں چوری، ڈکیتی و دیگر سماجی جرائم میں نمایا اضافہ ہوا ہے۔
واضع رہے کہ بلوچستان بھر میں ڈیتھ سکواڈز سے لیکر منشیات فروش و ہر طرح کے سماجی برائیوں میں ملوث عناصر و ٹولوں کو عسکری اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل ہے۔
سرکاری سطح پر اب تک واقعہ کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور نہ اس کارروائی کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول کی ہے۔