بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں مقتول نوجوان کریم داد منظور کی میت کے ہمراہ لواحقین نے میں شاہراہ پر دھرنادیکر اسے ہر قسم کی آمدو رفت کیلئے بند کردیا ہے ۔
واضع رہے کہ کریم داد ولد منظور کو گذشتہ روزجمعرات کو تمپ کے علاقے کوھاڑمیں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا۔
علاقہ مکین اور لواحقین کا کہنا ہے کہ قاتلوں کا تعلق ریاستی حمایت یافتہ ملیشیاڈیتھ اسکواڈسے ہے۔
کریم داد کی میت کے ہمراہ ان کے اہل خانہ نے گذشتہ شب ایم ایٹ شاہراہ کو جدگال ڈن (ڈی بلوچ پوائنٹ) پر دھرنا دے کر بلاک کردیا ہے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ تمپ سے انصاف کے حصول کے لیے تربت آئے ہیں کیوں کہ نامعلوم افراد نے ان کے دو جوان بچوں کو شہید کیا ہے مگر ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
انہوں نے تربت کے عوام سے دھرنا میں شریک ہونے اور انہیں انصاف رسائی تک حمایت کی اپیل کی ہے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف عوام کو باہر نکل کر احتجاج کرنا چاہیے تاکہ یہ سلسلہ یہیں ختم ہو۔