بلوچ نسل کشی کی نئی شکل انتہائی خطرناک ہے،ڈاکٹر ماہ رنگ

ایڈمن
ایڈمن
1 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف مکران میں، گزشتہ دو ماہ کے دوران متعدد نوجوانوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ آج ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے تمپ گومازی میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے بلوچی زبان کے نوجوان شاعر، کریم بلوچ کو شہید کر دیا، جبکہ تین روز قبل اسی علاقے میں کمسن معراج بلوچ کو بھی ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے شہید کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ نسل کشی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے، اور اس کی یہ نئی شکل انتہائی خطرناک ہے۔ پہلے نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتا کیا جاتا تھا، لیکن اب انہیں براہ راست نشانہ بنا کر قتل کیا جا رہا ہے۔

بی وائی سی رہنما نے مزید کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچ نسل کشی کی اس خطرناک پالیسی کا بھرپور مقابلہ کرنا ہوگا، کیونکہ ریاست نے بلوچ سرزمین پر بلوچوں کو منظم طریقے سے قتل کرنے کا حتمی منصوبہ بنا لیا ہے۔

Share This Article