بلوچ وومن فورم کے سربراہ ڈاکٹر شلی بلوچ نے اپنے ایک بیان میں بلوچستان میں ماورائے عدالت نوجوانوںکے قتل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں بلوچستان میں جاری نسل کشی میں تیزی پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتا ہوں، جہاں بے گناہ بلوچ نوجوانوں کو منظم طریقے سے مقامی ملیشیا اور ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلوچ شہریوں، خصوصاً پڑھے لکھے نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے قتل، ریاست کی بلوچستان میں جاری بربریت کا واضح ثبوت ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چند روز قبل معراج بلوچ کو ڈیتھ اسکواڈز نے نشانہ بنایا، اور آج ان کے رشتہ دار کریم بخش، جو منظور بلوچ کے بیٹے اور ایک باصلاحیت بلوچ شاعر اور باشعور نوجوان تھے، کو کوہاڑ تمپ، کیچ میں مبینہ طور پر مقامی ملیشیا کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا۔ ایسے منظم قتل و غارت کے ذریعے ریاست خوف کا بیانیہ مضبوط کرنے اور معاشرتی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ محض مذمتی بیانات اب موثر نہیں رہے۔ اس بربریت کو چیلنج کرنے کے لیے اجتماعی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے۔ مزید خاموشی مزید لاشوں کا سبب بنے گی، جو ناقابل قبول ہے۔