جبری گمشدگیوں کیخلاف تربت و حب میں ریلی و دھرنا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت اور صنعتی شہر حب میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں کیخلاف ریلی نکالی گئی اور دھرنادیا گیا۔

تربت شہر میں لا کالج میں طلبہ و طالبات نے لاپتہ کامل شریف اور احسان سرور بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف ریلی نکالی اور کالج کے اندر احتجاج کیا۔

انہوں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھاکر نعرے بازی کی۔

لا کالج کے طالب علموں نے ایڈمن بلاک کے سامنے احتجاج کیا اور دونوں لاپتہ طلبہ کی باحفاظت اور فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے کہا کہ بلوچ طلبہ کی جبری اغوا اور پھر سالوں ےک گمشدگی غیر قانونی عمل ہے، اس جبر پر خاموش نہیں رہیں گے بلکہ ہر ممکن آواز اٹھاکر آئین سے ماورا اس عمل کے خلاف احتجاج کریں گے۔

یاد رہے کہ کامل شریف اور ان کے قریبی رشتہ دار احسان سرور کو 4 فروری کی صبح لاپتہ کیا گیا تھا جب وہ کسی کام کے سلسلے میں اسکول سے تربت شہر گئے تھے۔

کامل شریف معروف سماجی شخصیت اور ساچان اسکول کے ڈائریکٹر شریف زاکر کے کم عمر بیٹے اور احسان سرور ان کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

شرہف زاکر کو چند مسلح افراد نے گذشتہ ہفتہ ملک آباد میں فائرنگ کرکے زخمی کیا وہ اس وقت کراچی میں زیر علاج ہیں۔

دوسری جانب حب میں گڈانی موڈ پر لاپتہ اسراراللہ کی بازیابی کیلئے لواحقین نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دھرنا دیکر شدید احتجاج کیا۔

دھرنے کی وجہ سے ٹریفک مکمل معطل ہوگئی ۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ اسرار اللہ 3 دسمبر 2023 سے لاپتہ ہیں۔

ابھی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے مابین کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرکے شاہراہ کھول دیا گیا ہے۔

Share This Article