بلوچستان کے ساحلی شہر و ضلع گوادر کے تحصیل پسنی سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار نوجوانوں کے لواحقین نے ضلع گوادر کے ایم پی اے سے ملاقات میں ان کی فوری بازبی کا مطالبہ کیا ہے۔
واضع رہے کہ گذشتہ دنوں پسنی شہر و مضافات سے فورسز نے درجن سے زیادہ نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔ان میں اب تک 3 بازیابی رپورٹ ہوئی ہے۔
ایم پی اے گوادر اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن سے پسنی سے لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی فیملی نے ملاقات کی اور اپنے لاپتہ بچوں کی بازیابی کے لیے حکام بالا سے بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے۔
فیملی نے بتایا کہ اُنکے بچے بے قصور ہیں اُنھیں رہا کروایا جائے۔
اس موقع پر ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے بتایا کہ حق دو تحریک متاثرین کے ساتھ ہے اور ہر فورم پر اُنکے لیے آواز اُٹھائے گی اور اُنھیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔
فیملی نے کہا کہ ہم ڈپٹی کمشنر گوادر اور انتظامیہ کی یقین دہانی پر پسنی زیروپوائنٹ پر دھرنا ختم کردیا تھا اب انتظامیہ اپنے وعدے کی پاسداری کرئے۔
فیملی نے کہا کہ اگر دو روز کے اندر ہمارے بچے بازیاب نہیں کیے گئے تو ہم دوبارہ مکران کوسٹل ہائی وے کو بند کردینگے۔