تمام یرغمالوں کی رہائی بعداسرائیل کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اب کیا کرے گا،ٹرمپ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ سے تمام یرغمالوں کی ایک ساتھ رہائی کی ڈیڈ لائن کے بعد اب اسرائیل کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کیا کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے ہفتے کو سماجی رابطے کی سائٹ ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا ہے کہ حماس نے صرف تین یرغمالوں کو رہا کیا ہے جن میں ایک امریکی شہری بھی شامل ہے اور وہ تمام ٹھیک حالت میں نظر آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یرغمالوں کی رہائی کا اقدام حماس کے گزشتہ بیان سے مختلف ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی یرغمال کو رہا نہیں کرے گی۔

واضح رہے کہ عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس نے 10 فروری کو ایک بیان میں اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئےمزید یرغمالوں کی رہائی معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے بھی 10 فروری کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر حماس نے ہفتے کو دن 12 بجے تک تمام یرغمالوں کو نہ چھوڑا تو وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم سے تمام معاہدے ختم کرنے کا کہیں گے اور پھر تباہی آئے گی۔

صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد حماس نے جمعرات کو جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا اعلان کیا تھا۔

جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس نے ہفتے کو تین یرغمالوں کو رہا کیا ہے جس کے بدلے اسرائیل نے بھی 369 فلسطینی قیدیوں کو جیلوں سے آزاد کیا ہے۔

فریقین کے درمیان قیدیوں کا یہ چھٹا تبادلہ ہے۔ معاہدے کے تحت 19 جنوری سے اب تک غزہ سے 24 یرغمالوں اور سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔

ہفتے کو تمام یرغمالوں کی ایک ساتھ رہائی کی ڈیڈ لائن پر صدر ٹرمپ نےایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کو اب یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اسے اب اس ڈیڈ لائن کے بارے میں کیا کرنا ہے۔

ان کے بقول اسرائیل جو بھی فیصلہ کرے گا امریکہ اس کی حمایت کرے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ وہ جارحانہ منصوبے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

اس سے قبل اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے منگل کو دھمکی دی تھی کہ اگر حماس نے ہفتے تک یرغمال رہا نہ کیے تو وہ جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیں گے۔

انہوں نے فوج کو لڑائی کے لیے تیار رہنے کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔

امریکہ، قطر اور مصر کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ ماہ تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی معاہدے پر اتفاق ہوا تھا۔

Share This Article