بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پوسٹ میں کہا ہے کہ 16 سالہ حیات سبزل کو 3 جولائی 2024 کو تربت، کیچ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور گزشتہ رات پنجگور میں اسے ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا تھا۔
سمی بلوچ نے کہا کہ ان کے اغوا کے بعد، ان کے اہل خانہ نے متعدد احتجاجی مظاہرے کیے، جن میں سے ایک جولائی میں تربت میں ڈپٹی کمشنر (DC) کے دفتر کے باہر بھی شامل تھا۔ ڈپٹی کمشنر نے ان کی بحفاظت رہائی کی یقین دہانی کرائی تھی اور اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا، لیکن ان پر کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔
انہوںنے کہا کہ ضلع کیچ میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات تشویشناک حد تک پہنچ گئے ہیں۔ ہم انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان غیر انسانی کارروائیوں کے خلاف کارروائی کریں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جوابدہ بنائیں اور ان ہلاکتوں پر عدلیہ کی خاموشی پر سوال اٹھائیں۔