جبری گمشدگیاں و ماورائے عدالت قتل کیخلاف کوئٹہ و نوشکی میں احتجاجی مظاہرے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

جبری گمشدگیاں اور مارائے عدالت قتل سمیت ریاستی مظالم و انسانی حقوق کیخلاف ورزیوںکیخلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے کوئٹہ و نوشکی میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔

نوشکی میں میر گل خان نصیر لائبریری سے نوشکی پریس کلب تک ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

ریلی میں سیاسی و سماجی کارکنوں انسانی حقوق کے نمائندوں اور عام شہریوں نے شرکت کی۔

مظاہرین نے خضدار میں ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے ہاتھوں آسمہ بلوچ کے اغواء، تربت میں اسکالر اللہ داد بلوچ کے ماورائے عدالت قتل اور خاران سے مبارک بلوچ و حافظ حضرت علی بلوچ کی جبری گمشدگی کی شدید مذمت کی۔

ریلی کے شرکاء کا کہنا تھا کہ بلوچ نسل کشی کی یہ پالیسی نوآبادیاتی حکمت عملی کا تسلسل ہے جس کا مقصد بلوچستان میں شعور و بیداری کو کچلنا ہے۔

اسی طرح کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی سے گولیمار چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

ریلی میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی جس میں اسمہ بلوچ، اللہ داد بلوچ، مبارک بلوچ اور علی بلوچ کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں نے بلوچ نسل کشی کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیااور کہا کہ بلوچوں کے لیے سڑکوں کے علاوہ انصاف کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا گیا ہے۔

ریلی سے بی وائی سی کی مرکزی کمیٹی کے اراکین ڈاکٹر صبیحہ بلوچ اور بیبرگ بلوچ نے بھی خطاب کیا۔

انہوں نے ٹارگٹ کلنگ، زبردستی اغوا، بلوچ اقدار کی بے حرمتی اور انسانی بحرانوں کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے عام بلوچ عوام پر ریاستی جبر اور جبر کی مذمت کی۔

انہوں نے کئی دہائیوں سے بلوچ وسائل اور معیشت کے استحصال کو اجاگر کرتے ہوئے ریاستی مظالم اور تشدد کے خلاف مزاحمت کی ضرورت پر زور دیا۔

Share This Article