حماس کی جانب سے سنیچر کے روز تین اسرائیلی مغویوں کو رہا کر دیا گیا ہے جس کے بعد اب اس کے بدلے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے 183 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
سنیچر کے روز رہائی پانے والے مغویوں میں 52 سالہ ایلی شرابی، 56 سالہ اوہد بن امی، اور 34 سالہ اُرلیوی شامل ہیں۔
رہائئ کے وقت کی تصاویر میں حماس کے جنگجوؤں کو یرغمالیوں کے ساتھ پلیٹ فارم پر چڑھتے دیکھا گیا، حماس کے دو جنگجو ہر یرغمالی کے ساتھ تھے۔
جس وقت تینوں یرغمالی پلیٹ فارم پر چڑھے تو ان کے ہاتھوں میں رہائی کے سرٹیفکیٹ دکھائی دے رہے تھے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے تینوں مغویوں کو حاصل کر لیا ہے اور انھیں طبی معائنے کے لیے اسرائیل منتقل کیا جائے گا۔
دوسری جانبفلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل بھی جاری ہے جہاں بس انھیں لے کر مقبوضہ مغربی کنارے میں رملا کے مقام پر پہنچی ہے جہاں انھیں ریڈ کراس کے سپرد کیا جائے گا۔
19 جنوری کو جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 18 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جا چکا ہے اور بدلے میں اسرائیل نے 383 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ مزید 183 قیدیوں کو سنیچر کو واپس بھیج دیا جائے گا۔ تقریبا 33 یرغمالیوں اور 1900 قیدیوں کو تین ہفتوں میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے اختتام تک رہا کیا جائے گا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ 33 میں سے آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔