خضدار: مغوی خاتون کی بازیابی کا دعویٰ، جب تک مغوی دھرنا گاہ نہیں پہنچتی روڈ بلاک رہیگا،مظاہرین

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے خضدار سے پاکستانی فوج کی حمایت یافتہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں اغوابلوچ خاتون اسما جتک کی بازیابی کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔

دوسری جانب دھرنے پر بیٹھے لواحقین کا کہنا ہے کہ جب تک مغوی دھرنا گاہ نہیں پہنچتی احتجاج جاری رہے گااور شاہراہ اسی طرح بلاک رہے گا۔

ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی نے مغوی خاتون بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت اور خصوصاً وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کیذاتی کوششوں سے انتظامیہ نے سخت جتن کے بعد ملزمان تک رسائی حاصل کی۔

ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی نے بتایا کہ پولیس، لیویز اور خفیہ ادارے شروع دن سے اسما بی بی کی باحفاظت بازیابی اور ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے کوششوں میں مصروف تھی۔ان سب کی مشترکہ کوششوں کے باعث اسما بی بی کو صحیح سلامت بازیاب کرانے میں کامیاب ہوئے جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

یاد رہے کہ تین دن قبل خضدار انجیرہ میں مسلح افراد نے جتک قبیلہ سے تعلق رکھنے والی اسما بی بی کو اغوا کیا اس کے خلاف بلوچستان بھر میں شدید احتجاج کیا گیا۔

اسما بی بی کی اغوا کا الزام چیف آف جھالاوان نواب ثنا اللہ کے زہری کے ذاتی باڈی گارڈ ظہور جمال زئی اور ان کے ساتھیوں پر لگایا گیا۔

اس واقعہ کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی نے خضدار شہر میں دو دنوں تک شٹرڈاؤن ہڑتال کی اور کوئٹہ کراچی سمیت کراچی مکران شاہراہیں احتجاج کے سبب بلاک کردیں۔

ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ مغوی کو خضدار کے تحصیل زہری سے بازیاب کرایا گیاہے۔

ڈی سی خضدار نے کہا کہ مختلف دشوار گزار علاقوں میں متعدد چھاپے مارے گئے اور 14 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں ملوث دو افراد بھی گرفتار کرلیئے گئے ہیں ۔

ڈی سی خضدار نے کہا کہ مغویہ کی بازیابی میں تمام خفیہ سیکورٹی اداروں کی معاونت رہی۔

انہوںنے کہا کہ ایف آئی آر میں نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات سے لیویز اور پولیس کی جانب سے ریڈ جاری تھا آج کامیابی ملی، مغوی خضدار لائی جارہی ہے۔

خضدار میں شاہراہیں تین دن سے بند ہیں ، مغوی کے لواحقین و عوام بڑی تعداد میں شاہراہ پر دھرنا دیئے بیٹھی ہے ۔ سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں کڑی ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔

Share This Article