بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے خضدار سے ریاستی ڈیاتھ اسکواڈ کے ہاتھوںبلوچ خاتون آسمہ جتک کے اغوا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسمہ جتک کا اغوا کوئی الگ تھلگ جرم نہیں ہے، بلکہ یہ بلوچ عوام کو دہشت زدہ کرنے اور خاموش کرانے کے لیے پاکستان کے منظم تشدد کے سلسلے کا حصہ ہے۔
انہوںنے کہا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے، آسمہ اور اس کا خاندان جبری بے دخلی، ٹارگٹ کلنگ، اور ریاستی پشت پناہی میں کام کرنے والے موت کے اسکواڈز کے ذریعے ہراسانی کا شکار رہے ہیں۔
اب، انہیں انہی قوتوں نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے جنہوں نے ان کے منگیتر کو اس وقت قتل کر دیا تھا جب انہوں نے زبردستی شادی سے انکار کر دیا تھا۔
بی این ایم چیئرمین کا کہنا تھا کہ یہ جرائم مکمل استثنیٰ کے ساتھ انجام دیے جا رہے ہیں، اور ان کے پیچھے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نواب ثناء اللہ زہری کا ہاتھ ہے، جن کی نجی ملیشیائیں بلوچستان میں کھلے عام کارروائیاں کر رہی ہیں۔
انہوںنے کہاکہ رحیم بخش اور ظہور جمالزئی جیسے مجرم، جو متعدد اغوا، قتل، اور پرتشدد کارروائیوں کے ذمہ دار ہیں، آج بھی پاکستانی ریاست کی پشت پناہی کی بدولت قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ محض انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ جنگی جرم ہے۔ بلوچ خواتین کے جبری گمشدگیوں اور ظلم و جبر کے ہتھیار کے طور پر تشدد کے استعمال کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے مزید کہا کہ دنیا کو پاکستان کو بلوچستان میں کیے جانے والے جرائم پر جوابدہ ٹھہرانا ہوگا اور آسمہ جتک کی فوری رہائی کا مطالبہ کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ خاموشی مجرمانہ شریک ہونے کے مترادف ہے! عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، کارکنوں اور بین الاقوامی اداروں کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے۔