پاکستانی فورسز نے کراچی سے ایک بلوچ طالب علم کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا جبکہ بلوچستان کے ساحلی شہر اورماڑہ سے ایک لاش برآمدہوئی ہے۔
پاکستانی فورسز نے کراچی سے ایک بلوچ نوجوان کو اغواء کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
نوجوان کی شناخت حسن خان کے نام سے ہوئی ہے،جس کا تعلق ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے متصل قصبے شہرک سے ہے اوروہ لوامز انٹر کالج اوتھل میں زیر تعلیم ہیں۔
فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے طالب علم کو گزشتہ رات کراچی میں ان کے رہائشگاہ سے حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جس کے بارے میں اب کوئی خبر نہیں ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے ساحلی شہر اورماڑہ سے ایک شخص کی لاش برآمدہوئی ہے۔
آمدہ اطلاعات کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مکران کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ کے علاقے سید آباد کے قریب پیش آنے والے بس حادثے میں لاپتہ ہونے والے دو افراد میں سے ایک کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔
لاش کی شناخت بس ڈرائیور فیصل کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق بس ڈرائیور فیصل کی لاش جمعہ کی صبح جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر ملی جبکہ دوسرے لاپتہ شخص عالم کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ وہ محفوظ ہیں اور حادثے کے وقت ایک اور گاڑی میں سوار ہو گئے تھے۔
واضح رہے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مکران کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ کے علاقے سید آباد کے قریب کراچی سے گوادر جانے والی الداد کوچ اسٹیرنگ جام ہونے کی وجہ سے حادثے کا شکار ہو گئی تھی جس میں پانچ افراد سوار تھے جن میں تین افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ ابتدا میں دو افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات تھیں تاہم زخمیوں میں سے امتیاز اور سرفراز کی طبیعت انتہائی ناساز بتائی جاتی ہے جنہیں کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔