خضدار: مغوی خاتون کے والد اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے فریاد کناں ہے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے خضدار سے گذشتہ دنوں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں اغوا ہونے والی بلوچ خاتون عاصمہ جتک کی بازیابی کیلئے قومی شاہراہ دو دنوں سے مکمل بند ہے اور لواحقین و علاقہ مکین دھرنا دیئے بیٹھے ہیں ۔جس میں خواتین وبچوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔

دھرنا اور روڈ بندش سے سینکڑوں گاڑیاں کڑی ہیں ،ہزاروں کی تعداد میں مسافر پھنسے ہوئے ہیں لیکن انتظامیہ کی جانب سے دھرنا مظاہرین سے کسی قسم کی کوئی مذاکرات اور مغوی خاتون کی بازیابی کیلئے کوئی اقدامات دیکھنے کو نہیں ملے ہیں۔

دھرنے میں موجود مغوی خاتون کے بزرگ والد کا کہنا ہے کہ ہم خضدار کے علاقے انجیرہ سے تعلق رکھنے والے 60 خاندان 15 سال قبل نقل مکانی پر مجبور ہوئے تاکہ ہماری عزت و غیرت محفوظ ہوسکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنا علاقہ چھوڑا ہے اس وقت ہم کرائے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں، کسی ریاستی ادارے نے آج تک یہ جاننے کی زحمت نہیں کی کہ ہم اپنا علاقہ چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئے، ہم نے اپنی عزت بچانے کے لیے علاقہ چھوڑا، مگر اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ہمارے گھروں سے ہماری عورتوں کو اغوا کیا جا رہا ہے۔

بے بس والد نے کہاکہ 6 فروری کی رات ایک بجے،سردار (سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری )کے حامیوں نے، جن کی تعداد 20 کے قریب تھی ہمارے گھر پر دھاوا بول دیا، حملے میں مردوں اور عورتوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام مسلمانوں اسر انسانیت سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں سے درخواست ہے کہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں اور سردار (ثناء اللہ زہری) سے یہ اپیل ہے کہ اپنے بندوں کو قابو کریں نہیں تو پہلے ہم مردوں کو مار دیں پھر ہمارے عورتوں کو اغواء کریں۔

بزرگ وبے بس والد نے مزید کہا کہ تمام اداروں سے التجاء ہے کہ اس عمل میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں اگر نہیں کیا تو ہماری لاشیں اٹھائیں ۔

یہ دردناک الفاظ عاصمہ بلوچ کے ہیں جنہیں پرسوں رات ایک بجے سردار ثناء اللہ کے لوگ ریاستی سرپرستی میں زبردستی اغوا کر لیا گیا، جبکہ گھر میں موجود دیگر افراد پر بھی تشدد کیا گیا۔

Share This Article