بلوچستان نیشنل موومنٹ کے انسانی حقوق کے ادارے پانک نے اپنے ایک بیان میں بلوچستان میں جبری نقل مکانی، ٹارگٹ تشدد اور صنفی بنیادوں پر ظلم و ستم کے شکار عاصمہ جتک کے اغوا کی شدید مذمت کی ہے۔
واضع رہے کہ بلوچستان کے علاقے خضدار سے گذشتہ روز ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے بلوچ خاتون عاصمہ جتک کو اغوا کیا جس کے ردعمل میں لواحقین سمیت علاقہ مکین اور بی وائی سی کی جانب سے صبح 4 بجے کے قریب سنی سبزی منڈی پہنچ کر مرکزی شاہراہ کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیاتھا جو ہنوز بند ہے اور لوگ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔
ذرائع کے کہنا ہے کہ قومی شاہراہ کی بندش سے سینکڑوں گاڑیاں اور مسافر دو دنوں سے پھنسے ہوئے ہیں۔
پانک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مغوی بلوچ خاتون عاصمہ جتک کا اغوا تقریباً ایک دہائی کی دھمکیوں، ایذا رسانی اور پاکستان کی فوج کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی طرف سے خطے میں استثنیٰ کے ساتھ کام کرنے والے تشدد کے بعد ہوا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ عاصمہ جتک اور ان کے خاندان کو 2014 سے شدید ظلم و ستم کا سامنا ہے، جب انہیں نواب ثناء اللہ زہری سے منسلک فورسز نے ان کے آبائی گاؤں انجیرہ، ضلع سوراب سے زبردستی بے گھر کر دیا تھا۔ ان کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا، اور ان کی کمیونٹی کو اندرونی طور پر بے گھر افراد (IDPs) کے طور پر بلوچستان اور سندھ میں پھیلا دیا گیا۔ صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب عاصمہ کے منگیتر عبدالسلام، جو انجینئرنگ کے آخری سال کے طالب علم تھے، کو ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے بے دردی سے قتل کر دیا گیا، جب خاندان نے اسماء کی جبری شادی کی اجازت اپنے کسی رکن سے دینے سے انکار کر دیا۔
پانک کا مزید کہنا تھا کہ دس سال تک، عاصمہ اور اس کا خاندان خوف کے عالم میں زندگی گزار رہے تھے، مسلسل دھمکیوں سے بچنے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ فرار ہو رہے تھے۔ عاصمہ کو منظم طریقے سے نشانہ بنانا، پہلے اس کے منگیتر کو قتل کرکے اور بعد میں مسلسل دھمکیاں دے کر، اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح صنفی بنیاد پر تشدد کو بلوچ خواتین کے خلاف ہتھیار بنایا جاتا ہے تاکہ پوری کمیونٹی کو خوف اور خاموش کیا جاسکے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کا اغوا بلوچستان میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کی یاددہانی ہے، جہاں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور اختلاف رائے پر پرتشدد جبر معمول بن چکے ہیں۔ پاکستانی حکام نے مسلسل ان جرائم کی حمایت کی ہے، جس سے مجرموں کو مکمل معافی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔