بلوچستان لبریشن فرنٹ کےترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ تنظیمی ساتھیوں نے گورکوپ میں پاکستانی فورسز پر حملہ اور بلیدہ میں ناکہ بندی کی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے کیچ کے علاقے گورکوپ میں قائم قابض فورسز کی چوکی اور بلیدہ میناز میں ناکہ بندی کرکے عوام سے خطاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے پانچ فروری بروز بدھ بوقت شام چھ بجے گورکوپ کے علاقے ڈوکی میں قائم قابض پاکستانی آرمی کی چوکی میں کھڑے فوجی اہلکار کو اسنائپر سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہلاک ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ حملے کے بعد قابض آرمی نے اندھا دھند فائرنگ کی اور مارٹر گولے داغے لیکن سرمچاروں نے بہترین جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اور بحفاظت محفوظ مقام کی جانب منتقل ہوئے۔
ترجمان نے کہا کہ دوسری کارروائی سرمچاروں نے گزشتہ روز بلیدہ میناز میں ناکہ بندی کر کے سرمچاروں نے کئی گھنٹوں تک گشت کیا، دوران گشت سرمچاروں نے عوام سے ملاقات کی اور ان سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف عوامی قوت ہے، عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہے اور عوام کی طاقت و حمایت سے ہی قابض ریاست کو بلوچ سرزمین سے بیدخل کرے گی۔ یہ ناکہ بندی سرزمین سے جمالیاتی محبت کا عکس ہے اور سرمچاروں کی طاقت کا مظہر ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان دونوں کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور قابض فوج پر حملے آزادی بلوچستان کے حصول تک جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔