تربت میں بلوچ اسکالر کا قتل بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تربت میں بلوچ اسکالر اللہ داد کا قتل بلوچ نسل کشی کے تسلسل کا حصہ ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ماروائے عدالت قتل کے خلاف جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ شب تربت میں گمشاد ہوٹل میں بلوچ اسکالر اللہ داد بلوچ کو ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ اللہ داد بلوچ جیسے پڑھے لکھے نوجوانوں کا قتل، بلوچ سماج کے قابلِ فخر ذہنوں کا قتل ہے۔ ریاستی خفیہ اداروں نے ایک منظم منصوبے کے تحت انہیں نشانہ بنایا۔

ترجمان نے کہا کہ تربت سمیت پورے مکران میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران متعدد افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، جن میں جبری گمشدگی کے شکار افراد بھی شامل تھے۔ ماورائے عدالت قتل بلوچ نسل کشی کی پالیسی کا حصہ ہیں، جس کے تحت بلوچوں کو شناخت کر کے مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان واقعات میں تیزی سے اضافہ نہایت تشویشناک ہے اور بلوچستان میں ریاستی جبر اور بربریت کی شدت کا ثبوت ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم مکران سمیت پورے بلوچستان میں حالیہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خلاف تربت میں ایک پریس کانفرنس کریں گے اور اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

Share This Article