امریکہ غزہ پر ’قبضہ‘ کر کے اس کی تعمیرِ نو کر سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

منگل کے روز اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ پر طویل مدتی قبضے کی سوچ رکھتے ہیں جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔

نتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی رہنما ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال کر ’اس پر حقیقی معنوں میں کام‘ کر سکتا ہے جیسے کہ ایسے بموں کو ہٹانا جو پھٹے نہیں ہیں، غزہ کی تعمیر نو اور اس کی معیشت کو دوبارہ متحرک کرنا۔

امریکی صدر نے بنا کسی ثبوت کے دعویٰ کیا کہ فلسطینی صرف اسی لیے غزہ واپس جانا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ انھوں نے غزہ کو کسی تباہ شدہ علاقے سے تشبیہ دی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم پہلے جیسے حالات کی طرف واپس نہیں جا سکتے ورنہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایک خود مختار علاقے کا انتظام سنبھالنے کی بات کر رہے ہیں تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا وہ غزہ پر طویل مدتی قبضے کی سوچ رکھتے ہیں جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔

ان کہنا تھا کہ ’ہم اس علاقے کو اپنی زمین کی طرح اپنائیں گے، اس کو ترقی یافتہ بنائیں گے، ہزاروں نوکریاں پیدا کریں گے، یہ واقعی بہت شاندار ہوگا۔‘

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سب کو ان کا یہ آئیڈیا بہت پسند ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تجویز کے بارے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا آئیڈیا ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ غزہ کا ایک مختلف مستقبل دیکھتے ہیں۔

جنگ بندی معاہدے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیلی اور امریکی مغویوں کو واپس لانے میں مدد کی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی ہے جو بائیڈن انتظامیہ نے بند کردی تھی۔

نتن ہاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنگ جیت کر اس جنگ کو ختم کر دے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کی بھی جیت ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم امن جیتیں گے اور مشرق وسطیٰ کا ایک نیا مستقبل ترتیب دیں گے۔

Share This Article