بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے بلوچستان کے جنرل سیکریٹری شے مرید رشید بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تعلیم اور تعلیمی اداروں کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب ہونے نہیں دینگے اورتعلیمی عمل کے خلاف کسی بھی سازش کا بھرپور طریقہ سے جمہوری انداز مین مقابلہ کیا جاے گا۔
شے مرید رشید بلوچ کا اپنے ساتھیوں ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج ہم یہاں ایک سنگین مسئلے پر بات کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جو ضلع کیچ کے کنٹریکٹ اساتذہ کے مستقبل اور تعلیمی نظام کی سالمیت سے جڑا ہوا ہے۔
انہوںنے کہا کہ پچھلےدنوں بلوچستان حکومت کی طرف سے میرٹ کے برخلاف تعیناتیوں پر ایجوکشن ڈیپارٹمنٹ کے تین ذمہ داروں کو میرٹ کے بر خلاف تعیناتی کے پاداش میں برطرف کیا گیا مگر اسی ریکورٹمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ڈی سی کیچ جو ضلع کیچ مین تمام خرید وفروخت کا سر غنہ ہے اس کو بری الزمہ ٹھہرا کر اسکے خلاف کارروائی سے اجتناب کیا گیا ہے جس سے حکومت کی سنجیدگی اور ایمانداری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان حکومت اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے ضلعی کیچ میں محکمہ تعلیم کے افسران کے خلاف کارروائی صرف ڈرامہ بازی ہے اصل ذمہ داران کمیٹی کے سربراہان اور اپنے من پسند اور چہتے افسران کو بری الزمہ کرار دیکر کمیٹی کے اراکین کے خلاف کاروائی کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی سازش کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ انکوائری افسران کی ریکمنڈیشن کے مطابق سی ار سی ضلعی کمیٹی کے سربراہ غیر قانونی اور میرٹ کے برعکس تعیناتیوں کا ذمہ دار ہیں لیکن وزیر اعلی بلوچستان نے کمیٹی کے سربراہ ضلعی انتظامیہ کیچ کے سربراہ ڈپٹی کمشنر کیچ کو تحفظ دینے کیلے کمیٹی کے ممبران کے خلاف کارروائی کی جیسے ہم غیر منصفانہ سمجھ کر مسترد کرتے ہین اور مطالبہ کرتے ہیں کمیٹی چیرمین ڈپٹی کمشنر کیچ سمیت تمام ذمہ دارن کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے ۔
بی ایس او رہنما نے کہا کہ سرفراز حکومت کا ڈسٹرکٹ کیچ کے ریکروٹمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ڈی سی کیچ کے حوالے سے خاموشی اور دیگر کے حولے سے کارروائی حکومت کا عوام کو چکما دینے کے مترادف سمجھتے ہیں ۔
انہوںنے کہا کہ حکومتی وزرا کی منشا پر ریکروٹمنٹ کمیٹی کے چیرمین ڈی سی کیچ کی سرپرستی مین ڈسٹرکٹ کیچ کے کنٹریکٹ ملازمین کے میرٹ کا جنازہ نکال دیا گیا تھا سرفراز حکومت کا ڈی سی کیچ سمیت دیگر ذمہ داروں کے حوالے سے خاموشی اور صرف چند ایک ملوث ذمہ داروں کو زمہ دار ٹھہرانا اور کارروائی کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے ابھی بھی حکومت وقت 2 نمبری سے کام لیکر عوام کو چکما دینے کی کوشش کر رہا ہے مگر بی ایس او پجار اس بات کو واضع کرتا ہے کے موجودہ کرپٹ انتظامیہ جو کے ہر شعبہ مین خرید وفروخت کو پروان چڑھا رہے ہیں اسے کسی بھی صورت بری الزمہ نہیں ٹہرایا جاسکتا اور میرٹ کو یقینی بنانے کیلے موجودہ کرپٹ انتظامیہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے نئی انتظامی سربراہان کی سرپرستی میں ریکروٹمنٹ کمیٹی تشکیل دیکر میرٹ کے عمل کو یقینی بنایا جائےبصورت دیگر بلوچستان بھر مین سخت ترین احتجاج کا رستہ اپنایا جائے گا۔
شے مرید رشید بلوچ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ایک مہینہ سے گرلز ڈگری کالج تربت کے بسزز بند ہیں، تربت گرلز کالج کے بسوں کو بند کرنا قابل مزمت ہے گرلز ڈگری کالج کا تعلیمی سال کا دوسرا مہینہ چل رہا گرلز ڈگری کالج کے بسسزز بند ہیں بسزز کے فیس کے مد میں لاکھوں روپے اسٹوڈنٹس سے وصول کیے گئے ہیں اور طالبات سے ری ایڈمیشن کے مد میں لاکھوں روپے بٹورنے کے باوجود گرلز ڈگری تربت میں عدم سہولت کا شکار ہے جس صاف ظاہر ہے گرلز ڈگری کالج انتظامی کرپشن کا شکار ہے سینکڑوں اسٹوڈنٹس کی مستقبل کو خطرہ لاحق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کالج انتظامیہ کی طرف سے کالج بجٹ کو بے دریغ استعمال کی عکاسی کرتا ہے بی ایس او پجار گرلز ڈگری کالج کے بجٹ کے اڈٹ کا مطالبہ کرتا ہے موجودہ نااہل ذمہ داروں کو ہٹا کر ایماندر افیسر کے تعیناتی کو یقین بنا کر گرلز ڈگری کالج تربت کا دیوالیہ پن سے بچایا جائے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کی واضح موقف ہے کہ طالبات کو ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں دی گئی تو طالبات سے ملکر کالج انتظامیہ اور حکومت وقت سیکٹری کالجز اور ڈائریکٹر کالجز کے خلاف احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا۔