بلوچستان میں قلات کے مختلف علاقوں میں گذشتہ شب سینکڑوں کی تعداد میں مسلح افراد کے داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
علاقائی ذرائع کے مطابق مختلف مقامات پر گذشتہ شب کراچی ٹو کوئٹہ شاہراہ پر مسلح افراد کی جانب سے ناکے لگائے گئے جبکہ قلات کے علاقے منگوچر میں بھی مرکزی فوجی چھائونی پر بڑے پیمانے پر حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ مسلح افراد نے قلات میں کوہک کراس، شیخڑی کراس، خزینہئ سمیت مختلف مقامات پر ناکہ بندی اور چیکنگ کی تھی ۔
ادھر منگچر میں واقع فوج کے مرکزی کیمپ پر چاروں اطراف سے حملے ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
گذشتہ شب منگوچر سے ایک مقامی ذرائع کاکہنا تھا کہ حملہ کافی بڑے پیمانے کا ظاہر ہورہا ہے جہاں دھماکوں اور شدید فائرنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا تھا کہ منگچر میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا اور کوئٹہ ٹو کراچی شاہراہ پر ٹریفک بند رہی ۔ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیاں بدرنگ، کھڈکوچہ سمیت مستونگ کے مختلف جگہوں پر روک لی تھیں۔
قلات میں ناکہ بندی اور منگچر میں فوجی چھائونی پر حملے کے واقعات میں فورسز اہلکاروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں لیکن سرکاری سطح پر مذکورہ واقعات اور ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
البتہ اسسٹنٹ کمشنر منگچر کے حوالے سے ایک حکم نامہ گردش کررہی ہے کہ شاہراہ پر سفر سے گریز کریں منگچر کے مقام راستہ کلیر نہیں ہے۔
دوسری جانب بی ایل اے کی جانب سے سوشل میڈیا پر مذکورہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی جارہی ہے لیکن اس کی باقائدہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے ۔