واشنگٹن : مسافر طیارہ وفوجی ہیلی کاپٹر مابین حادثہ،18 افرادکی ہلاکت کی تصدیق

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکی دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مسافر طیارہ فوج کے ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گیا جس سے اب تک 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے ۔

امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں امریکن ایئرلائنز کی پرواز ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گئی۔

یہ واقعہ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے رن وے 33 کے قریب مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے کے قریب پیش آیا۔ حکام تحقیقات کر رہے ہیں۔

امریکن ایئرلائنز کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حادثے کے شکار ہونے والے طیارے میں 60 مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے۔

امریکی ایگل فلائٹ 5342 جو وچیٹا، کنساس (آئی سی ٹی) سے واشنگٹن ڈی سی (ڈی سی اے) جارہی تھی، ڈی سی اے میں حادثے کا شکار ہوئی ہے۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ وہ اس حادثے کی نگرانی کر رہے ہیں اور بہتری کی امید کرتے ہیں۔

تاہم رونالڈ ریگن نیشنل ایئر پورٹ (ڈی سی اے) نے تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ ہوائی اڈے کی انتظامیہ کی جانب سے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’ڈی سی اے میں تمام ٹیک آف اور لینڈنگ کو روک دیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایئر فیلڈ پر طیارے کے حادثے کے بعد ایمرجنسی اہلکار کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب جس بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارے کے درمیان حادثہ پیش آیا ہے اُس میں تین امریکی فوجی سوار تھے۔

ایک اور عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ان فوجیوں کے حوالے سے تو ابھی کُچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم یہ بات واضح ہے کہ ہیلی کاپٹر میں کوئی سینئر عہدیدار سوار نہیں تھا۔

دوسری جانب امریکہ میں مسافر بردار طیارے اور امریکی فوج کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ابتدائی طور پر حکام کی جانب سے 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق حادثہ سے سرچ آپریشن کرنے والے عملے نے 18 لاشیں برآمد کی ہیں تاہم اب تک اب تک حادثے کے شکار ہونے والے طیارے میں سے کوئی بھی مسافر زندہ نہیں پایا گیا ہے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کی نئی وزیر کرسٹی نوئم نے کہا ہے کہ وہ تلاش اور امدادی کارروائی میں تیزی لانے کے لیے امریکی کوسٹ گارڈ کو تعینات کر رہی ہیں۔

حکام کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا ہے۔ لیکن جلد ہی انتظامیہ کی جانب ایک نیوز بریفنگ کی توقع کی جا رہی ہے۔

Share This Article