حکومت نے بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذکردی ہے اور ہر قسم کی اجتماعات یا مظاہروں کی پر پابندی لگادی ہے۔
اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گوادر نے سیاسی جماعتوں کو جاری دھرنا فوری طور پر ختم کرنے کے لئے مراسلہ ارسال کردیا ۔
ڈپٹی کمشنر گوادر کے سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے نام لکھے مراسلے کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ دھرنے کے تمام مطالبات سے آگاہ ہے اور ان پر مذاکرات کے بعد کئی نکات پر پیشرفت ہو چکی ہے۔ تاہم، عوامی مفاد میں مزید کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ن)، اور تحریک انصاف کے ضلعی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دھرنے کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔حکومت بلوچستان کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد کسی قسم کے غیر قانونی اجتماعات یا مظاہروں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عوامی مفاد اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
واضع رہے کہ گوادرشہر میں گذشتہ چالیس دنوں سے میرین ڈرائیو پر جاری ہے۔
یہ دھرنا بنیادی مسائل کے حل اور بنیادی حقوق کی حصول کیلئے دیا جارہا ہے ۔
دھرنے میں آل پارٹیز کے کارکنوں کے علاوہ ماہیگیروں،طوفان متاثرین،پک یونین سمیت آل پارٹیز کے کارکن شریک ہیں۔
دھرنا مظاہرین کا کہنا تھا کہ مطالبات تسلیم نہیں کئیے گئے تو دھرنے کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مکران کوسٹل ہائی کو مکمل بلاک کردیں گے۔