بلوچ بیٹیوں نے ثابت کیا کہ ظلم کے ضابطے وہ نہیں مانتے،سمیر جیئند

ایڈمن
ایڈمن
15 Min Read

کوئٹہ میں بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس کے رہنماؤں کے پر امن احتجاجی ریلی پر ضلعی انتظامیہ نے فوج کے کہنے پر(کیوں کہ کھٹ پتلی وزیراعلیٰ نے صاف الفاظ میں کہاہے کہ اس واقع بارے مقامی انتظامیہ نے انھیں اعتماد میں نہیں لیاتھا)دھاوا بول کر طلباء اور طالبات کو زدوکوب کیا ۔ درندگی کا عالم یہ کہ بلوچ طالبات کو روڈ پر گھسیٹا گیا اور انکی چادریں اتاری گئیں اور تشدد بعد انھیں حوالات میں بند کرکے توحین آمیز رویہ اپنا کر باربار انھیں یہ کہا گیا اور احساس دلانے کی کوشش کی گئی کہ بلوچ شدت پسند ہیں ۔ اس سوال سے یہ پختہ یقین ہوجاتاہے کہ یہ وہی مائنڈ سیٹ ہے جو ستر سال سے بلوچستان پر قابض چلے آرہے ہیں ۔ یہ طبقہ ایک طرف بلوچستان کے قدرتی معدنی وسائل تیل، گیس ،سونا، چاندی ،مرمر، سمیت قیمتی وسائل لوٹ کر پنجاب کو توانا کررہے ہیں ، تو دوسری جانب بلوچ قوم پر شعور کے دروازے مسلسل بند کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ایک لمحہ کیلے ہم مان جاتے ہیں کہ وہ بلوچ جنھیں عرف عام میں بلوچ سرمچار کہاجاتاہے آپ انکے خلاف زیر زمین فوجی کاروائی درندگی وحشت نہ صرف خود کرتے ہیں بلکہ اپنے مقامی ڈیتھ اسکوائڈز بھی بنائے رکھے ہیں ،کہیں کسی بلوچ پر معمولی شق گذرے بلاجھجھک انھیں اغوا کرکے اڑالیں ،انکے گھر جلائیں ، املاک لوٹیں گھر کے قیمتی سامان حتی کہ خواتین کے پوشاک اور زیورات کو بھی نہیں بخشیں مال غنیمت سمجھ کر لوٹیں آپ پر حلال ہوگا ۔ چلو فرضی طورپر اس بات کا ادراک ہوجاتاہے کہ بلوچ سرمچار آپ سے براہ راست کھلم کھلا اعلانیہ لڑ رہے ہیں ، حتی کہ آخری گولی سے اپنا خاتمہ کرتے ہیں ۔ مگر حیرت اس وقت ہوتی ہے کہ جو نہتے ہیں چاہئے پروفیسر کی شکل میں ہوں یا طلبا ء طالبات کی ان سے اتنی بوکھلاہٹ (قابض ریاست کو) کیوں ہے یہاں یہ کہاوت جچتاہے کہ چور کے داڑھی میں تنکا ۔

مطلب یہ کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور پنجابی اشرافیہ کو اس بات کا خوب احساس ہوچکاہے کہ ہم قابض اور یہاں مقبوضہ بلوچستان میں چند دن کے مہمان ہیں ، لہذا جتنا جلدی ہو ہم ایسا منصوبہ بنائیں کہ بلوچ کی نئی آنے والی نسل تعلیم سے دور رہے اور اپنے آزادی کے جنگ سے بے خبرہو ،کیوں کہ اس سے پہلے والے نسل نے ہمارے ناک میں دم کر رکھاہے ۔ انھیں ہم نے گذشتہ ساٹھ سال سے جاہل ان پڑھ گنوار نہ صرف مطالعہ پاکستان بلکہ اپنے لفافہ والے میڈیا زریعے ظاہر کرنے کی کوشش بھی کی ہے، جس میں کامیاب بھی ہوئے کم سے کم ہمارے اشرافیہ پنجابی کو یقین ہوچلاتھاکہ جس طرح بلوچ بارے ہماری حکومت کہہ رہی ہے ایسے ہی ہیں ۔

مگر ان سب جھوٹی باتوں پر اس وقت پانی پھر گیا، جب سوشل میڈیا نے یہاں قدم رکھا ۔ سوشل میڈیا کے پہنچتے ہی نہ ہم بلوچ پر اپنے فوجی کاروائیاں اوردرندگی چھپا سکے نہی بلوچوں کو چرواہا جاہل رکھنے میں کامیاب ہوئے ۔ لوگوں کو پتاچلا کہ پاکستان کی حکومت سول یا فوجی جو بات بتارہی تھی وہ تو مہذ جھوٹ کا پلندہ ہی تھی ۔ بلوچ پر پنجابی کی جانب سے تعلیمی میدان میں تمام سہولیات کے دروازے بند رکھنے باوجود اعلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں سرخرو ہوئے ۔ دودہائی قبل جن سرمچاروں کو ان پڑھ ،گنوار، جاہل اور وحشی ظاہر کیا جارتھا ۔ وہ تو ڈاکٹر،انجنیئر،وکیل ،پروفیسر،ٹیچر ،علماء مفتی،حتی کہ ایم فل پی ایچ ڈی ،ادیب شاعر گلوکار ،وغیرہ نکلے ۔ لہذا اب کسی طرح سے بلوچستان میں بچا کچھا نظام تعلیم جوکہ آکیسیجن پر اپنی سانسیں گن رہاہے اسے بھی بند کیا جائے تاکہ کم سے کم آنے والا بلوچ نسل جہالت کے دلدل میں دھنس جائے ۔ جس طرح پہلے کہاگیا کہ پنجابی اشرافیہ ہر وقت یہ ورد کررہاتھا کہ بلوچ جاہل ہیں ، بلوچ اپنے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے نہیں دیتے تو ،انھوں نے اس جھوٹے پروپیگنڈے کو سچ ثابت کرنے کیلئے دودہائی قبل اعلی تعلیمی ادارہ جامعہ بلوچستان کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا ،اس طرح ان کا خیال تھا کہ بلوچ طلباء کو کسی طرح ڈرادھمکایاجائے گا اور طالبات خود حالات دیکھ کر تعلیمی اداروں کا رخ نہیں کریں گے ،مگر کچھ وقت گذرنے بعد انھیں احساس ہونے لگاکہ یہ سوچ رائےگاں چلا گیا، لہذا فیصلہ ہوا اب طلباء کو اغواکیا جائے ، اس شیطانی پریکٹس کو انھوں نے نہ صرف جامعہ بلوچستان بلکہ دوسرے کالج اورتعلیمی اداروں کے طلبا پر آزمانا شروع کیا، طلباء کو اٹھانا شروع کیا حتی کہ جو طلباء لاہور اسلام آباد پشاور کراچی ،جامشورہ وغیرہ میں زیر تعلیم تھے انھیں بھی معاف نہیں کیا گیا، ہزاروں بلوچ طلباء کو خفیہ اداروں ، ایف سی، فوج، ریجنرز، پولیس، لیویز اور مقامی ڈیتھ اسکائڈززریعے اٹھاکر ازیت گاہوں میں وحشت کا نشانہ بنایا ،انکے جسم ڈرل کئے گئے بھاز کو اجتماعی قبروں میں ازیت بعد دبا دیا ،مسخ لاشیں پھینکنی شروع کیں ،لیکن کامیاب رزلٹ نہ مل پایا ۔ چنانچہ اب پروفیسرز کو ٹارگٹ کرنا شروع کیا تیزی سے استاتذہ اٹھائے اور شہید کئے جانے لگے پھر بھی فرق نہ آیا ۔ اب کی بار معزرت کے ساتھ ہیرامنڈی کے ٹرکز استعمال کرکے جامعہ بلوچستان کے طالبات کے واشرومز اور ہاسٹل میں خفیہ کیمرے نصب کرکے بلوچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کا آخری حربہ استعمال کرنا شروع کیا کچھ ہی عرصہ میں ایک بہادر بلوچ بیٹی نے تعلیم چھوڑنے کے بجائے اس راز کا پردہ چاک کرکے مہذب دنیا کے سامنے رکھا ،جس سے قابض ریاست کی دنیا میں جگ ہنسائی شروع ہوئی عالمی اور انسانی حقوق کے اداروں نے ریاست کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ طلبا طالبات والدین سماجی سیاسی تنظی میں اس گھناوَ نے جرم کے ارتکاب انتظامیہ جنکو فوج کی آشیربادحاصل تھی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے ۔ بلآخر قابض ریاست منہ لٹکاکر اپنی شرمندگی چھپانے کیلئے جامعہ بلوچستان میں وردی متعارف کروایا تاکہ احتجاج کا رخ کسی حد تک موڑا جا سکے۔،

مگر خاطرخواہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ اب وہ اسی شش پنچ میں تھے کہ کونسا شیطانی چال آزمایا جائے اتنے میں دنیا نے عالمی وبا کورونا کے پھیلنے کا اعلان کیا ۔ شروع شروع میں اس غیر فطری ریاست کاخیال تھا کہ شاید اس وباء کو چھپاکر عالمی اداروں سے شاباشی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرکے انعام واکرام وصول کر پائیں گے ،مگر ان کے سوچ کا الٹ رزلٹ آنکلا ۔ ویسے پاکستان کی شومئی قسمت ہر وقت جو انکا سوچ ہوتا ہے کام اسکے الٹ ہوجاتے ہیں یہاں بھی ایساہی ہوا ۔ عالمی اداروں نے تمام ممالک کو اس وباو سے بچاوکیلے لاک ڈاوَون کا مشورہ دے دیا ،جب دنیا کے دوسرے ممالک نے اس پر عمل شروع کردیا تو یہ ناکام ریاست بغلیں بجاتا رہاکہ میں یہ جھوٹ بول کر کہ یہاں یہ وبا نہیں پہنچی لاک ڈوَون نہیں کروں گا ۔ اتنے میں عالمی اداروں نے اعلان کیا کہ جن جن ممالک میں یہ وبا ہے انھیں مالی کمک دی جائے گی ۔ جب یہ اعلان اس ناکام ریاست نے سنا تو اب فوج اشرافیہ ایک دوسرے کو کاٹنے لگے کہ ہم نے اس وباء کو کیوں چھپایا؟ اب امداد سے رہ گئےم یعنی دھوبی کا کتا بن گئے نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ۔ یہ آپس میں گتھم گتھا ہوکر لٹکے منہ لاک ڈاوَون شروع کیا ۔ ایک ماہ بعد انھیں پتا چلا کہ ہم تو اس عالمی لسٹ سے باہر ہیں جن ممالک کو وباکی وجہ سے امداد دینے کا اعلان کیا گیاہے ۔ اب کیا کرے ہوت چڑیاں چگ گئے کھیت ۔ ہم اپنے اصل موضوع سے ہٹ گئے خیر آتے ہیں اپنے موجوع پر چونکہ یہ ریاست جیساکہ پہلے عرض کر چکا تھا کہ اس تاک میں رہتاہے کہ بلوچ قوم کو کیسے زیر کیا جاسکے تو یہاں پھر اس نے اس وباء سے یہ فائد اٹھانا چاہاکہ کیوں نہ اپنے وحشت اور درندگی کو تیز کیا جائے ،چونکہ عالمی دنیا اس وباء میں پھنسا ہوا ہے ،تو یہاں پہلا کام اسنے وہی کیا کہ بلوچستان میں کورونا کے وبا کو جان بوجھ کر ایرانی زائرین زریعے پھیلانا شروع کیا ، اورساتھ ساتھ ان علاقوں میں فوج کو تعینات کرنا شروع کیا جواز یہ تھاکہ وہ کورونا کے تحفظ کیلئے لائے گئے ہیں ، مگر اصل مقصد یہاں فوجی آپریشن کو مذید تیز کرنا تھا، جب فوج مختلف علاقوں میں قدم رکھنا شروع کیا تو انھیں تحفظ دینے کی خاطر جن جن علاقوں میں نیٹ ورک اب تک ہچکولے کھاکر جھول رہاتھا ،وہاں بھی اسے جام کرنا شروع کیا ،اور اتنے میں تمام علاقے کوہلوسے لیکر حب اور کچھی سے لیکر جیونی تک جام ہوگئے ۔ آپ کے بھی علم میں ہے کہ مکران کا پچانوے فیصد نیٹ ورک پہلے سے جام تھا اس طرح خاران ڈیرہ بگٹی ،کوہلو کاہان کے علاقے بھی گذشتہ پانچ سال سے جام کئے گئے تھے ۔ جب ریاست نے یہ کارنامہ فوج کو تحفظ دینے اور اس کے درندگی چھپانے کیلے مکمل کیا تو ۔ دنیا کے ممالک نے طویل لاک ڈاوَون کی سبب آن لائن کلاسسز کے اجراء کا اعلان کیا ۔ اب اس رٹہ والے مٹھو کو ہوش آگیا کہ ہم بھی ملک ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ یہ ملک تخلیق بجائے ہر چیز میں کاپی پیسٹ ہے ، یہی رٹ لگانا شروع کیا کہ چلو ہم بھی آن لائن کلاسسز کا اعلان کرتے ہیں انھوں نے اعلان کر ڈالا ۔ انھیں کبھی یہ توقع نہ تھی کہ بلوچستان کے طلبا سراپا احتجاج بنیں گے ،وہ تو صرف دنیا کو دکھاوے کیلئے اعلان کردیا تھا کہ ہم آن لائن کلاس لے رہے ہیں ،یعنی کالاباغ ڈیم کی طرح ایک اعلان ہوگا ۔ انکے اس سفید جھوٹ پر بلوچستان کے طلباء نے پانی پھیر کر اسے بے نقاب کرنے کیلئے سراپا احتجاج بن گئے کہ میاں پہلے آکر یہ تو وضاحت کریں کہ بلوچستان کے کس کس علاقے میں بجلی اور نیٹ ورک کا نظام مکمل اپنی جگہ جزوی بحال ہے۔جو آپ اتنے ڈینگیں مار رہے ہو کہ آپ تعلیم دوست ہیں ،ہاں ممکن ہے پنجاب میں بجلی اور نیٹ ورک کا نظام آٹے میں نمک کے برابر ہو، مگر ہم تو بلوچستان میں رہ رہے ہیں جہاں آپ قابض ہو اور اسے اپنا کالونی بنا چکے ہو یہاں ان دونوں کا تصور نہیں ہے ۔ اس تلخ حقیقت کو آشکار کرنے پر انھوں طلباء کے ساتھ بھی وہی رویہ اپنا یا جو سرمچاروں کے ساتھ آزما تا آرہاہے ۔

چونکہ طلبا طالبات نہتے تھے اس لئے انھوں نے انکے خلاف شیرو فورسز کو استعمال کرکے بلوچ قومی روایات کو پاوَوں تلے روند ڈالا ،اور خواتین کو سرعام گھسیٹا اور انکے دوپٹے اتار کر انھیں نیچا دکھانے کہ ناکام کوشش کی کہ آپ کی حیثیت ایک غلام قوم کی ہے ۔ چاہئے آپ مسلح ہوں یا غیر مسلح آپ کے ساتھ اسی زبان میں بات کی جائے گی ، یقیناَ قابض ریاستَ بلوچی روایات سے واقف نہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ اب تک بہتر سال گذر جانے باوجود پنجابی اشرافیہ اور فوج یہ نہ سمجھ سکھا کہ لفظ بلوچی ،زبان یا قوم کیلے استعمال ہوتا ہے ۔ تو ایسے میں بلوچ کے خاتون کی چادر کی اہمیت کیا جانے گی کہ جب یہ چادر سر سے اتاری جاتی ہے تواس کا کیا مطلب ہوتا ہے یعنی چادر اتارنے میں کہاں فائدہ اور کہاں نقصان پہنچاتاہے;بلوچ قوم کو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں پر ناز ہے جب بھی انھیں دشمن نے للکاراہے تو وہ بغیر صنف کے فرق کئے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر مقابلہ کیا ہے اور دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائی ہے جس کا ثبوت ملک ناز شہیداور کلثوم شہید کی شکل میں دیکھ چکے ہیں یا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ،صبیحہ بلوچ نمرا بلوچ،مہلب دین بلوچ سمیت بلوچ طالبات کی ملتی ہے ۔ جنھوں نے قابض ریاست کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ واضح پیغام ،اسلام آباد جی ایچ کیو تک پہنچا نے میں کامیاب ہوئے کہ ظالم کے ظلم کے ضابطے وہ نہیں مانتے ۔

Share This Article
Leave a Comment