امریکا نے پاکستان سمیت متعدد ممالک کی امداد معطل کر دی

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

امریکہ نے اسرائیل اور مصر کے سوا تمام ملکوں کی امداد عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ایک لیک شدہ اندرونی دستاویز(میمو) کے مطابق امریکہ نے تمام موجودہ غیر ملکی امداد کو معطل کر دیا ہے اورکسی بھی نئی امداد پر عملدرآمد کو بھی روک دیا ہے۔

یہ میمو امریکی حکام اور بیرونِ ملک امریکی سفارتخانوں کو بھیجا گیا۔

اس دستاویز کے تحت صرف خوراک کی ہنگامی امداد اور اسرائیل اور مصر کے لیے فوجی امداد کو اس حکم سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

دستاویز کےمطابق ’اس دوران نہ کوئی نیا فنڈ جاری ہو گا اور نہ ہی موجودہ معاہدوں میں توسیع کی جائے گی جب تک کہ ہر نئے معاہدے یا توسیع کا جائزہ لے کر اس کی نئے سرے سے منظوری نہ دی جائے گی۔‘

یہ معاملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیر کے روز جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے بعد سامنے آیا، جس میں انھوں نے 90 دن کے لیے غیر ملکی ترقیاتی امداد کو مؤخر کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ اس کے مؤثر ہونے اور ان کی خارجہ پالیسی سے ہم آہنگی کا جائزہ لیا جا سکے۔

یاد رہے کہ امریکہ بین الاقوامی امداد فراہم کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 68 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل بڑھ گئی ہے اور دنیا بھر میں دیگر بھوک کے بحرانوں، بشمول سوڈان، میں بھی انسانی امداد جاری ہے۔

محکمہ خارجہ کا یہ میمو ترقیاتی امداد سے لے کر فوجی امداد تک سب پر اثرانداز ہو گا۔

احکامات میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حکام فوری طور پر متعلقہ معاہدوں کی شرائط کے مطابق کام روکنے کی ہدایات جاری کریں جب تک کہ اس سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا جائے۔

اس میمو میں 85 دن کے اندر غیر ملکی امداد کے تمام پروگراموں کے وسیع پیمانے پر جائزے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امداد صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے اہداف کو پورا کرتی ہے۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کہہ چکے ہیں کہ بیرونِ ملک امریکی اخراجات اور امداد صرف اسی وقت کی جائے گی جب ان سے امریکہ کی مضبوطی، اسے محفوظ یا زیادہ خوشحال بنانا ثابت ہو سکے گا۔

محکمہ خارجہ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ یہ نوٹس امریکی امدادی پروگراموں پر ممکنہ طور پر بہت بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔

2023 کے آخر تک امریکی محکمۂ خارجہ میں ہتھیاروں کی منتقلی پر کانگریس کے تعلقات کی نگرانی پر مامور جاش پال کہتے ہیں کہ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ اگر اس کے تحت عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بارودی سرنگیں صاف کرنے کے پروگراموں کو اچانک روکنے کا حکم دیا گیا تو یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہوگا۔

مشرق وسطیٰ میں یو ایس ایڈ کے سابق مشن ڈائریکٹر ڈیو ہارڈن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بہت اہم نوعیت کا ہے اور اس سے دنیا بھر میں امریکی امداد سے چلنے والے انسانی اور ترقیاتی پروگرام فوری طور پر معطل ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ پانی، صفائی اور رہائش جیسے اہم ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

ڈیو ہارڈن نے کہا کہ اس سے شراکت دار اداروں یا غیر سرکاری تنظیموں کے ملازمین کی تنخواہیں تو دی جا سکتی ہیں لیکن اصل امدادی سرگرمیاں رک جائئں گی۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے کئی بار اس طرح کی امداد کو معطل ہوتے دیکھا ہے جب میں مغربی کنارے اور غزہ کا مشن ڈائریکٹر تھا لیکن وہ مخصوص پروگرام کے لیے ہوتی تھی۔ یہ عالمی سطح پر ہے۔ یہ میمو نہ صرف امداد کو روک رہا ہے بلکہ پہلے سے جاری معاہدوں پر بھی ’کام روکنے‘ کا حکم بھی دیتا ہے۔‘

اے ایف پی نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ انتہائی وسیع ہے۔ فنڈز کی اس معطلی سے یوکرین بھی متاثر ہو سکتا ہے، جسے صدر بائیڈن کے دور میں اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیار فراہم کیے گئے تھے۔

اس میمو میں فنڈز منجمد کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ نئی انتظامیہ کے لیے یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ موجودہ امدادی وعدے مؤثر اور صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی سے ہم آہنگ ہیں اور یہ غیر ضروری طور پر دہرائے نہیں جا رہے۔‘

میمو کے مطابق ہنگامی خوراکی امداد کے لیے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

Share This Article