بلوچستان کے ساحلی شہر وسی پیک مرکز گوادر میں منگل کے روز پولیس نے بلوچستان کتاب کاروان کے نام سے لگے ایک بک اسٹال پر دھاوابول کر منتظمین طلباکو کتابوں سمیت گرفتار کرکے تھانہ منتقل کرنے کے عمل کیخلاف بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بساک )نے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک پوسٹ میں بساک نے کہا کہ آج بروز بدھ 22 جنوری سے گوادر میں بلوچستان کتاب کاروان کے کتب میلہ منعقد کرنے کی پاداش میں پولیس کی 4 طالبعلموں کو کتابوں سمیت گرفتار کرکے جیل میں ڈالنے سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں جاری کتب میلوں پر پولیس کی جانب سے مسلسل رکاوٹیں ڈالنے کے خلاف بلوچستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
انہوںنےمظاہروں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج کوئٹہ،تربت،ڈی جی خان اور نصیرآبادمیں احتجاجی مظاہرے ہونگے۔
اپنے بیان میں بساک نے کہا کہ گرفتاربلوچ طالبعلموں کو کتابوں سمیت رہا کیا جائے۔
اس سے قبل بساک کی جانب سے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ گوادر کتب میلے سے غیر قانونی گرفتار بلوچ نوجوانوں سمیت کتابوں کو قید کرنا بلوچ دشمن و علم دشمن عمل ہے جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جلدسے جلد طالبعلم کتابوں سمیت رہا نہیں کیے گئے تو سخت سے سخت احتجاجی ردعمل دیا جائے گا۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ کتب میلوں کی مہم بلوچستان کتاب کاروان کے نام سے جاری کتب میلوں کی سلسلے سے گوادر شہر میں بھی مہم کا آغاز کیا گیا جس کے تحت کل سے کتب میلہ گوادر شہر میں جاری تھا مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پولیس و سیکورٹی فورسز نے کتب میلہ پر دھاوا بول کر وہاں موجود تنظیم کے ذمہ داران کو کتابوں سمیت گرفتارکرکے تھانے لے جایا گیاجو پچھلے نو گنٹھوں سے تھانے میں قید کیے گئے ہیں۔ پولیس و انتظامیہ یہ جواز پیش کررہے ہیں کہ کتابوں میں شائد ریاست مخالف کتابیں ہوں گی، مگر کتابیں سمیت چاربلوچ طالبعلم پچھلے نو گھنٹوں سے پولیس و حساس اداروں کے تحویل میں ہیں اور ان کو ابھی تک نہ ایسی کتابیں ملی ہیں اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی پابندی عائد کی گئی لٹریچر۔ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف بہانے ہیں، ان قوتوں کو بلوچ معاشرے میں علم پھیلانے و بلوچ نوجوانوں کی پڑھنے میں مسئلہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پولیس کے کہنے پر جب طالبعلموں نے اجازت نامہ درخواست لکھ کر نوجوان کتابوں سمیت رہا کرنے ہی والے تھے کہ کچھ سول وردی میں ملبوس افراد دوبارہ تھانے آکر طالبعلموں کو کتابوں سمیت دوبارہ گرفتار کرکے ان کو تحقیقاتی روم میں لے جایا گیا۔ طالبعلم پچھلے نو گھنٹوں سے ایک تحقیقاتی روم میں قید ہیں اور تفتیش کے نام پر ان کو ذہنی و جسمانی اذیتیں دینے کاخدشہ ہے۔ ضلعی انتظامیہ سے اجازت نامہ لینے کے باوجود اس ملک کی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نوجوانوں کو حراست میں رکھا گیا ہے اور اب غیرقانونی گرفتار طالبعلموں کو تحویل میں لے کر ان کو بنا کسی کیس کے کل عدالت میں پیش کرنے کا کہا جارہا ہے جو ناصرف غیر قانونی عمل ہے بلکہ اس ملک و حکومت پر ایک مزاحیہ ہے اور اس عمل میں ضلعی انتظامیہ و پولیس برابر کے شریک ہیں۔
انہوںنے کہا کہ یہ دنیا کا بالکل انوکھا واقعہ ہے جہاں علم پھیلانے والے کتابوں کو گرفتار کرکے جیل میں بندکیا گیا ہے۔ وہی کتابیں جو معاشرے کوسنوار کر انسان کو شعور یافتہ کرکے سماج کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں ۔ انتہائی حیرانگی و افسوس کا مقام ہے کہ یہی کتابیں اسی ملک میں چپ کر ملک بھر میں فروخت ہوتے ہیں اور دوسرے صوبوں میں بڑے بڑے سنٹروں میں کتب میلے سجا کر کتابیں فروخت کیے جاتے ہیں مگر جب بات بلوچستان کی آتی ہے تو یہاں الگ ہی کہانی و قوانین ہیں۔ یہاں کتب میلوں پر بندوق بردار دھاوا بول کر طالبعلموں کو ہراساں کرکے ان کو غیر قانونی گرفتار کرکے کتابوں سمیت قیدوبند کرتے ہیں۔ کبھی کتب میلوں پر دھاوا بول کر کتابوں کو ضبط کیا جاتا ہے تو کبھی طالبعلموں کو دیگر علمی سرگرمیوں لے پاداش میں مختلف ہتھکنڈوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ یہ سارے بلوچ دشمن و علم دشمن حرکتوں سے نہ بلوچ نوجوان ڈر جائیں گے اور نا ہی علم کے چراغ کو پھیلانے میں پیچھے ہٹیں گے۔
ترجمان نے کہا کہ گوادر کی طرح بلوچستان کے دوسرے علاقے ڈیرہ مراد جمالی، اوستہ محمد، جھل مگسی، جعفرآباد، سبی ، بارکھان، تونسہ، حب چوکی سمیت دیگر کچھ کتب میلوں پر پولیس و سول وردی افراد نے دھاوا بول کر مختلف حربوں سے ہراساں کیا اور کچھ جگہ اسٹالوں کو بلاجواز بند کیا گیا۔ یہ سارے حربے بلوچ معاشرے کو پیچھے دکھیلنے کے لیے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیے جارہے ہیں تاکہ بلوچ نوجوان علم سے دور رہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم انتظامیہ وپولیس سمیت تمام قوتوں کو واضح الفاز میں کہنا چاہتے ہیں کہ وہ ایسے رویوں کو ترک کرکے تمام گرفتار بلوچ طالبعلموں کو جلد سے جلد رہا کیا جائے اور بلوچستان بھر میں جاری کتب میلوں میں رکاوٹ ڈالنے سے گریز کریں۔ اگر بلوچ طالبعلم کتابوں سمیت رہا نہیں کیے گئے تو تنظیم کی جانب سے سخت سے سخت احتجاجی ردعمل دیا جائے گا۔