بلوچستان میں سرگرم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ(بی ایل ایف) کے میڈیا آشوب نے 10 نومبر 2024 کو ضلع کیچ کے علاقے دشت میں پاکستانی فورسز کے کیمپ پر بی ایل ایف کے خطرناک حملے کی ویڈیو فوٹیج جاری کی ہے۔
ویڈیو کے آغاز میں بی ایل ایف کے سرمچاروں کی ایک بڑی تعداد کو پہاڑی سے نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جب کہ وہ گاڑیوں میں سوار ہوکر بازار میں فورسز کے کیمپ کی طرف جارہے ہیں۔ تاہم ویڈیو میں گاڑیاں نظر نہیں آ رہی ہیں جبکہ حملے کے بعد رات گئے گاڑیاں نظر آتی ہیں جس میں سوار ہوکر بی ایل ایف کے سرمچار اپنے ٹھکانوں کے جانب محو سفر ہوتے ہیں۔
ویڈیو میں سڑک پر ناکہ لگائے سرمچاروں کو دیکھا جا سکتا ہے جو بظاہر کیمپ کے اہلکاروں کیلئے مدد کو آنے والے قافلے کو نشانہ بنانے کی ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم، سرمچار رات گئے مدد کے لیے آنے والے قافلے پر بھی حملہ کرتے ہیں۔
ویڈیو میں سرمچاروں کو کیمپ کے باکل قریب جاتے اور مورچوں سمیت دیواروں کو تباہ کرکے فوجی کیمپ کے دیواروں کو مورچہ بناکر فورسز کو نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران ایک جنگجو کی آواز بھی سنائی دیتا ہے کہ “ یہاں ایک فوجی اہلکار بھاگ رہا تھا میں نے اس کو مار دیا”۔
ویڈیو میں شہید کیپٹن جمال بلوچ فورسز کے کیمپ کے قریب پہنچ کر دشمن سے آمنے سامنے لڑتے ہوئے شہید ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے بعدازاں اس کے ساتھی شرمچار شہید کا جسد خاکی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔
ویڈیو کے آخر میں بی ایل ایف کے جنگجوؤں کا بازار میں عوام کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا جاتا ہے اور پھر سرمچار گاڑیوں میں سوار ہوکر اپنے سفر جانب جاتے ہیں۔