حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ’ہمارے بہن، بھائی گھروں کو واپس آنے والے ہیں اور ان میں سے اکثریت زندہ ہے، یہ سب اسرائیل کے ثابت قدم مؤقف کے سبب ہوا ہے۔‘
سنیچر کو اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نتن یاہو نے جنگ بندی کے معاہدے پر امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اتوار سے شروع ہونے والی جنگ بندی ’عارضی‘ ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل لڑائی دوبارہ شروع کرنے کا ’حق محفوظ رکھتا ہے‘ اور ڈونلڈ ٹرمپ یہ یقینی بنائیں گے کہ ان کے ملک کے پاس دفاع کے لیے تمام اسلحہ اور بارود موجود ہو۔
خیال رہے گذشتہ بدھ کو قبل قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔
قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی نے قطر میں بدھ کو رات گئے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ معاہدے کا آغاز اتوار 19 جنوری سے ہو گا۔
اپنی تقریر کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے 15 مہینے جاری رہنے والی جنگ پر بھی بات کی اور حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت سمیت متعدد کارروائیوں کو اپنی عسکری کامیابی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے مشرقِ وسطیٰ کا چہرہ بدل دیا‘ اور اس کے نتیجے میں آج حماس ہر محاذ پر ’مکمل تنہا‘ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے تحت اسرائیل حماس سے وہ شرائط منوانے میں بھی کامیاب ہوا ہے جو کہ مسلح تنظیم ماضی میں ماننے پر راضی نہیں تھی۔
دوسری جانب مصر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں اسرائیل 1800 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو حماس کی طرف سے یرغمال بنائے گئے 33 اسرائیلی شہریوں کی رہائی کے بدلے میں آزاد کرے گا۔
مصر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب 1890 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ خیال رہے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ چھ ہفتوں پر محیط ہوگا۔
مصر، قطر اور امریکہ نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں مرکزی ثالث کا کردار نبھایا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جنگ بندی کے معاہدے پر اس وقت تک آ گے نہیں بڑھے گا جب تک حماس کی طرف سے یرغمال بنائے گئے ان افراد کی فہرست جاری نہیں ہوتی جنھیں مسلح تنظیم کی جانب سے رہا کیا جانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزیاں برداشت نہیں کرے گا۔ اس سب کی ذمہ دار حماس ہے۔‘
خیال رہے حماس اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے تحت حماس کو یرغمال بنائے گئے تین اسرائیلی شہریوں کو اتوار کے روز اسرائیل کے حوالے کرنا ہے۔
سنیچر کو اسرائیلی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی حکومت کو توقع ہے کہ معاہدے کے تحت رہا ہونے والے تین افراد کے نام انھیں آج موصول ہو جائیں گے۔
اسرائیلی میڈیا اس سے قبل 33 یرغمالیوں کی فہرست نشر کر چکا ہے جنھیں معاہدے کے تحت حماس نے رہا کرنا ہے، تاہم اس فہرست کی کسی بھی فریق نے تصدیق نہیں کی ہے۔