تمہیں اپنے بیٹے کی لاش بھی نصیب نہیں ہوگی،بزرگ والد کوانتباہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے ایک بلوچ برزگ شخص جس کا بیٹا گذشتہ 9 سالوں سے جبری طور پر لاپتہ ہے کو انتباہ کیا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے احتجاج نہ کرے ۔نہیں تو تمہیں اپنے بیٹے کی لاش بھی نصیب نہیں ہوگی۔

یہ بزرگ وضعیف شخص بشام بلوچ ہیں جس کو اسلام آباد لانگ مارچ میں شرکت کے بعد ریاستی اداروں کے ہاتھوں ہراسانی کا سامنا ہے اور اسے ہر چیک پوسٹ پر زبردستی روک اس کی داڑھی پکڑ کر اسے تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ و متحرک وسرگرم سیاسی وانسانی حقوق کارکن ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ نے سوشل میڈیا پر بشام بلوچ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ کماش بشام، جو بلوچ لانگ مارچ کا ایک اہم حصہ تھا، کی کہانی ان تمام والدین کے درد کو ظاہر کرتی ہے جن کے بچے جبری طور پر گمشدہ ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ کماش بشام کے ہاتھ میں اس کے بیٹے کی تصویر ہے، جو 2016 سے لاپتہ ہے۔ ریاست پاکستان نے اس عمر میں اس کے گھر کے سکون کو برباد کر دیا، مگر اس کے حوصلے کو توڑ نہیں سکی۔ وہ اسلام آباد سے کوئٹہ تک ہر احتجاج میں اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے شریک ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے لکھا کہ بلوچ نسل کشی کے یادگاری دن کے نصیرآباد پروگرام میں ایک بار پھر کماش بشام سے ملاقات ہوئی۔

اس نے اپنے دکھ اور تکلیف سے بھرپور مختصر کہانی سنائی:

"میرا بیٹا ابھی تک واپس نہیں آیا۔ اسلام آباد لانگ مارچ میں شرکت کے بعد میری پروفائلنگ کی گئی۔ تب سے آج تک ہر چیک پوسٹ پر مجھے روکا جاتا ہے اور ہراساں کیا جاتا ہے کہ اپنی شناخت کرو۔ اس دوران زبردستی میری داڑھی پکڑ کر کہتے ہیں، ‘یہ تمہاری سزا ہے۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمارے خلاف احتجاج کرنے کی؟ تمہیں اپنے بیٹے کی لاش بھی نصیب نہیں ہوگی۔”

بی وائی سی رہنما نے مزید لکھا کہ یہ رویہ برطانیہ نے بھی اپنے غلاموں کے ساتھ نہیں رکھا جو پاکستان نے بلوچوں کے ساتھ روا رکھا ہے۔

Share This Article