اسرائیل کی کابینہ نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدے کی منظوری دے دی جس سے حماس کے ساتھ 15 ماہ کی جنگ روک دی جائے گی۔
کابینہ کی چھ گھنٹے سے زائد میٹنگ کے بعد، حکومت نے یروشلم میں مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح 1 بجے کے قریب اس ڈیل کا اعلان کیا۔
اس سے قبل اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے جمعہ کو اس معاہدے کو منظور کرنے کی سفارش کی تھی۔
سیکیورٹی کابینہ سے منظوری کے بعد اب یہ معاملہ جمعے کو ہی اسرائیل کی فل کیبنٹ کے سامنے رکھاگیا تھا۔
نیتن یاہو کے دفتر نے جمعے کی صبح جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ نیتن یاہو کو مذاکراتی ٹیم نے آگاہ کر دیا ہے کہ یرغمالوں کی رہائی کے لیے معاہدہ ہو چکا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ حماس کے ساتھ یرغمالوں کی بازیابی کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس سے فریقین کے درمیان 15 ماہ سے جاری غزہ جنگ کے خاتمے میں حائل رکاوٹیں ختم ہو گئی ہیں۔
اسرائیل کی فل کیبنٹ کی جانب سے معاہدے کی منظوری کے بعد متوقع طور پراتوار سے جنگ بندی معاہدے کے تحت یرغمالوں کی واپسی اور اسرائیلی میں قید فلسطینیوں کی رہائی کا آغاز ہو جائے گا۔
امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے جمعرات کو کہاکہ وہ غزہ جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کے لیے ہونے والے معاہدے پر اتوار سے عمل درآمد کے لیے پرامید ہیں۔
اتوار سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں چھ ہفتوں کی جنگ بندی ہو گی اور اس دوران حماس اتوار کو 33 یرغمالوں کو رہا کرے گی جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور زخمی شامل ہیں۔ اس کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینی آزاد کر دیے جائیں گے اور غزہ کی امداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
اسی عرصے کے دوران دوسرے مرحلے میں تنازع کے مکمل خاتمے، غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور بقیہ یرغمالوں کی واپسی کے امور پر مذاکرات ہوں گے۔
معاہدے کے تحت تیسرے اور آخری مرحلے میں غزہ کی تعمیرِ نو اور وہاں حکومتی و سیکیورٹی انتظام پر بات ہو گی۔
یاد رہے کہ غزہ جنگ کا آغاز سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر دہشت گرد حملے کے بعد ہوا تھا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1200 افراد ہلاک اور تقریباً ڈھائی سو کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
حماس کے حملے کے جواب میں شروع کی گئی اسرائیل کی کارروائیوں میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 46 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔