بی وائی سی کی دالبندین جلسہ ریاست کیلئے چیلنج ثابت،کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ کل چاغی کا دورہ کرینگے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع چاغی کے مرکزی شہر دالبندین میں 25 جنوری کو بلوچ نسل کشی یادرگاری دن کی مناسبت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی منعقدہ جلسہ حکومت بلوچستان اور پاکستانی فوج کیلئے ایک بڑی چیلنج ثابت ہوگئی ہے۔

بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی بی وائی سی کی جلسہ کے عوامی اثرات کم کرنے کیلئے کل چاغی کا دورہ کرینگے ۔

حکومتی ذرائع کے مطابق سرفراز بگٹی، سابق چیئرمین سینٹ ایم پی اے چاغی صادق سنجرانی، سابق مشیر اعجاز سنجرانی کی دعوت پر بروز ہفتہ چاغی کے تحصیل نوکنڈی پہنچیں گے۔

کہا جارہا ہے کہ سرفرازبگٹی سابق چیئرمین سینٹ ایم پی اے چاغی صادق سنجرانی اور اعجاز سنجرانی کی دعوت پر وہ عوامی اجتماع سے خطاب کریگا اور ضلع چاغی کے لیئے ایم اعلانات کرینگے۔

بی وائی سی کی بلوچ نسل کشی یادگاری دن کو سبوتاژ کرنے کیلئے پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ بشمول حکومت بلوچستان مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں ۔

ڈی سی چاغی نے سرکاری ملازمین کے سیاسی تنظیموں اور جماعتوں کے اجتماعات ،جلسہ وجلوس وغیرہ میں شرکت اور سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی صورت میں محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔

گذشتہ سال گوادر میں بھی بلوچ راجی مچی کو سبوتاژ کرنے کیلئے اسی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے مگر عوامی قوت نے اجتماع کوکامیاب کیا۔

دالبندین میں 25 جنوری کے جلسہ کیلئے آگاہی مہم کے سلسلے میں گذشتہ روز مستونگ میں بی وائی سی کے قیادت کیخلاف جھوٹے مقدمات درج کئے گئے تاکہ انہیں کسی نہ کسی طرح دالبندین جلسے سے روکا جاسکے۔لیکن بی وائی سی کی قیادت تما م تر ریاستی ہتھکنڈوں کے باوجود دالبندین جلسہ کیلئےاپنی عوامی آگہی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق مشیر اعجاز سنجرانی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی نوکنڈی آمد پر بروز جمعہ تمام تر تیاریوں کا جائزہ لینے نوکنڈی پہنچ چکے ہیں۔

یاد رہے پاکستان کو معاشی حوالے سے مستحکم بنانے والا پروجیکٹ ریکوڈک بھی تحصیل نوکنڈی میں واقع ہے اور پاکستان کو اٹیمی پاور بنانے میں چاغی کے راسکوہ پہاڑ کو تجربے کے طور پر استعمال کیا گیا۔

Share This Article