بلوچ لبریشن آرمی ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں قلات حملے میں پاکستانی فوج کے 7 اہلکار وں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قلات، زہری، زامران اور دکی میں 5 مختلف حملوں میں قابض پاکستانی فوج، دشمن آلہ کاروں اور فوج کو رسد پہنچانے والی گاڑی کو نشانہ بناکر، قابض کو شدید نقصانات سے دوچار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے آج قلات میں سرخین اور نیچارہ کے درمیان قابض پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں کو اس وقت ریموٹ کنٹرولڈ آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جب وہ مذکورہ علاقے میں فوجی پیش قدمی کررہے تھے، دھماکے میں تین دشمن اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں کے گھات لگائے دوسرے دستے نے دشمن فوج کے دیگر پیدل اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں مزید چار اہلکار ہلاک ہوگئے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے منگل کے روز زہری میں قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے آلہ کار و مخبر شاہزیب ولد محمد ریاست سکنہ لاہور کو مسلح حملے میں ہلاک کردیا، مذکورہ کارندہ پاگل کے بھیس میں زہری شہر و گردنواح میں مخبری کا کام سرانجام دے رہا تھا۔
جیئند بلوچ کا کہنا تھا کہ بی ایل اے انٹیلی جنس ونگ "زراب” مذکورہ مخبر و آلہ کار کے نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئی تھی، جس کو قابض فوج کی سہولت کاری میں ملوث پایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے گذشتہ روز زامران کے علاقے نوانو میں قابض پاکستانی فوج کیلئے رسد پہنچانے والی ایک گاڑی کو مسلح حملے میں نشانہ بناکر گاڑی کو ناکارہ بنادیا جبکہ ڈرائیور کو تنبیہ کرکے چھوڑ دیا گیا۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک اور کاروائی میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گذشتہ شب دکی کے علاقے جھالار میں قابض پاکستانی فوج کی پشت پناہی میں قائم نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے ایک کیمپ کو بھاری ہتھیاروں سے حملے میں نشانہ بنایا، مذکورہ مسلح جتھہ اکبر ناصر کی سربراہی میں کام کررہا ہے جس نے مذکورہ علاقے میں دہشتگردی کے کیمپ قائم کیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ مسلح جتھہ قابض فوج کی سرپرستی میں دکی میں لوگوں کے زمینوں پر قبضے اور گردنواح کے علاقوں میں ڈکیتی و بھتہ خوری میں ملوث ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی واضح کرتی ہے قابض پاکستانی فوج کے کارندے براہ راست ہمارے نشانے پر ہونگے اور حملوں میں مزید شدت لائی جائے گی۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتی ہے۔