حکومت بلوچستان اور عسکری اسٹیبلشمنٹ نے 25 جنوری کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی عظیم الشان جلسہ "بلوچ نسل کشی یادگاری دن” کو سبوتاژ کرنے کیلئے سرکاری ملازمین کی شرکت پر ان کیخلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیدیا ہے۔
اس سلسلے میں ڈی سی چاغی نے سرکاری ملازمین کو سیاسی سرگرمیوں میں شرکت نہ کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر چاغی عطاالمنعم نے سرکاری ملازمین کے سیاسی تنظیموں اور جماعتوں کے اجتماعات ،جلسہ وجلوس وغیرہ میں شرکت اور سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی صورت میں محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔
25 جنوری کو دالبندین میں منعقدہ عظیم الشان جلسہ کیلئے بی وائی سی گذشتہ ایک ہفتے سے آگاہی مہم چلا رہی ہے۔
مستونگ ، قلات خاران ، کوئٹہ ، نصیر آباد، و دیگر علاقوں میں منعقدہ تقریبات ،شہدا کے قبروں پر حاضری ، عوامی اجتماع اور کارنر میٹنگز میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور بڑھ چڑ کر حصہ لیا جس سے ریاستی اداروں کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔
دالبندین جسلے کو 9 دن باقی ہیں جس سے ریاست اور اس کے ادارے بشمول حکومت بلوچستان اسے ناکام بنانے کیلئے مختلف حربے آزمارہے ہیں۔ لوگوں کو دھمکایا جارہا ہے اور سرکاری ملازمین کو جلسہ یا بی وائی سی کی کسی بھی تقریب میں شرکت یا سہولت کاری پر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔جبکہ دالبندین میں سرحدی تجارت کرنے والے افراد کی پکڑی گئی گاڑیاں ایف سی محض اس شرط پر واپس کر رہی ہے کہ وہ جلسہ میں شریک نہ ہوں۔۔۔
واضع رہے کہ گذشتہ سال گوادر میں منعقدہ بلوچ راجی مچی کو بھی اسی طرح ریاست کی جانب سے طاقت کے زور پر سوباژ کرنے کی کوشش کی گئی جس میں تشددکا بھی کا استعمال کیا گیا اور 3 نوجوانوں کو قتل جبکہ کئی افراد کو جبری لاپتہ اور متعددکو جعلی مقدمات میں گرفتار کیا گیاتھا۔