بلوچستان میں ڈاکٹر وں کی گرفتاریوں کیخلاف ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن نے بلوچستان وپاکستان بھر میںکل دو گھنٹے او پی ڈی ٹوکن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
پولیس نے گرفتاریوں کیلئے گرینڈ ہیلتھ الائنس بلوچستان رہنمائوں ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ، ڈاکٹر صبور کاکڑ، ڈاکٹر یاسرچگزائی اور ڈاکٹر ایوب کے گھروں پر مسلسل چھاپے مارے ۔جبکہ بے نظیر بھٹو ہسپتال میں اسسٹنٹ پروفیسر سرجری ڈاکٹر خاور اقبال کو گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاریوں کیخلاف ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن پاکستان کا گرینڈ ہیلتھ الائنس بلوچستان کی حمایت میں کل بروز جمعہ سے ملک بھر میں دو گھنٹے او پی ڈی ٹوکن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ نہ رکنے کی صورت میں بروز سوموار سے ملک بھر میں او پی ڈیز کے بائیکاٹ کا اعلان کرینگے۔
بیان میں کہا گیا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس بلوچستان سے منسلک ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن بلوچستان کے عہدے داران کے خلاف جھوٹے مقدمات میں ضمانت کے بعد چادر اور چار دیواری کی تقدس کی پامالی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
دوسری جانب پولیس و دیگر فورسز کی جانب سے ڈاکٹروں کی گرفتاری کیلئے مسلسل چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے ۔
ینگ ڈاکٹر ز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے قبائلی روایات اور معاشرتی اصولوں کو بالاطاق رکھتے ہوئے مسلح افراد گھروں کے اندر داخل ہو ہو کر فیملیز کو ٹارچر کر رہے ہیں ۔رات گئے صدر ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن ڈاکٹر کلیم کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارکر ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ کے چچا زاد بھائی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس کی 16 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی یہ پتانا چل سکا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کو کہاں منتقل کیا ہے؟
انہوںنے کہا کہ اسی رات ایک قانون نافذ کرنے والی اداروں کی ٹیم کا مسلسل تیسری مرتبہ ڈاکٹر صبور کاکڑ اور وائی ڈی اے پاکستان کے وائس چیئرمین اور وائی ڈی اے بلوچستان کے سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر یاسرچکزائی کے گھر پر بھی پولیس نے چھاپا مارا جہاں وہ موجود نہیں تھے لیکن فیملی ممبرز اور بچوں کو ٹارچر کرنے کے بعد پولیس خالی ہاتھ وہاں سے چلے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید بے نظیر بھٹو میموریل ہاسپٹل کے ایم ایس ڈاکٹر زینت جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایم ایس کے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنتے ہوئے ڈیوٹی پر مامور اسسٹنٹ پروفیسر سرجری ڈاکٹر خاور اقبال کو پولیس نے ہسپتال سے گرفتار کیا اور پیرا میڈیکل سٹاف فیڈریشن کے ذمہ داران کو بغیر کسی مقدمے یا پرچے کے پولیس نے حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔
انہوںنے کہا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس بلوچستان کی جانب سے بلوچستان بھر کے تمام ہسپتالوں میں اس وقت او پی ڈیز اور نان ایمرجنسی اپریشن تھیٹرز سے تمام ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کا اپنے مطالبات کے حق میں خدمات سے برخاست ہوئے آج چار دن مکمل ہو گئے جس کی وجہ سے سنڈیمن پروونشل ہاسپٹل کوئٹہ، بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کوئٹہ، شیخ زاہد اسپتال، بے نظیر بٹو شہید ہسپتال، مفتی محمود ہسپتال کچلاک ، فاطمہ جنا ہسپتال کوئٹہ، ٹیچنگ ہسپتال خضدار، ٹیچنگ ہسپتال چمن، ٹیچنگ ہسپتال تربت، ٹیچنگ ہسپتال کلاسیف اللہ اوربلوچستان کے تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ کوارٹر ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور نن ایمرجنسی اپریشن تھیٹرز مکمل طور پر غیر فعال ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے ان شدید خلاف ورزیوں پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پاکستان نے کل سے ملک بھر میں دو گھنٹے او پی ڈیز کے ٹوکن سٹرائیک کا اعلان کیا ہے ۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ اگر حکومت بلوچستان نے گرینڈ ہیلتھ الائنس بلوچستان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے انسانی حقوق کے خلاف ورزی کو فورا ترک نہ کیا تو بروز سوموار سے ملک بھر میں مکمل اور پی ڈی کا بائیکاٹ شروع کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان پر عائد ہوگی۔