”اے باپ زیوس!اکییا کی اولاد کو اندھیرے سے بچا
ہمیں اچھا موسم دے
اور حکم دے کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں
دیس کی محبت،آبشاروں میں بہتے پانیوں کی آوازیں
ساحلوں پر محبت کے قدم،آکاش پر محبت میں اُڑتے پنکھ
اور سُریلی میٹھی آوازیں!“
لونجائینس نے اپنے دیوتاؤں سے دعا کی تھی،پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لونجائینس کی یہ دعا بلوچستان کے حق میں قبول ہو تی جا رہی ہے۔بلوچ دھرتی کے آبشار بہتے پانیوں کی آوازوں سے گونج رہے ہیں۔پہاڑوں کی چوٹیوں پر سُرخ پھول کھل رہے ہیں۔ساحلوں پر محبت،محبت سے قدم رکھ رہی ہے۔اور ساحل حاملہ ہو رہا ہے۔آکاش پر کونج ایک اور ہی اداس سے اُڑتی ہیں اور دھرتی کی خاک کو دیکھتی ہیں۔وہ ہیں تو آکاش پر،پر ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ اس دیس کی خاک سے مل کر خاک ہو جائیں،دھول آلود ہو جائیں،وہ کونجیں ہیں اور بہت دور تک جا سکتی ہیں اور بہت اونچا اُڑ سکتی ہیں،پروہ دیس کے پتھروں پر رکش کر رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ”دیس کے پتھر،دیس کی مٹی اور دھول سے کس قدر پیوست ہیں!“
وہ محبت سے محبت میں پیوست ہیں اور کونجیں آکاش میں ہواؤں میں اُڑ رہی ہیں۔
جس دھرتی سے عاشق محبت تو عاشق پر پہاڑ۔ساحل۔پنکھ اور پتھر محبت کریں اُس دیس کا موسم کیسا ہو سکتا ہے؟بلوچستان کا موسم محبت کا موسم ہے۔عشق کا موسم ہے۔جو بھی اس دیس میں آتا ہے وہ محبت کے رنگ میں رُل جاتا ہے۔میں اُن شہیدوں کی تو بات ہی نہیں کر رہا جنہوں نے ایک محبت کو چھوڑا اور دوسری محبت سے جُڑ گئے۔جنہوں نے کالی سیاہ زلفیں چھوڑیں اور دیس کی محبت کی زنجیروں میں جکڑ گئے میں ان شہیدوں کی بات ہی نہیں کر رہا جن شہیدوں نے سفید محبت کے بدن چھوڑے اور خود لہو لہو ہو گئے۔
میں ان ملوکوں کی بات ہی نہیں کر رہا جنہوں نے محبوباؤں کے سفید پستان بہت پیچھے چھوڑے اور ہاتھ میں آزادی کا پرچم تھام لیا،ہواؤں نے آگے بڑھ کر ان کا ماتھا چوما!
میں ان دیش بھگتوں کی تو بات ہی نہیں کر رہا جنہوں نے محبوباؤں کے گلابی ہونٹ کچے مکانوں میں چھوڑے اور خود گلابی رنگ میں رُل گئے۔میں ان شہیدوں کی بھی بات نہیں کر رہاجنہوں نے حاملہ محبوبائیں پہاڑوں کے دامنوں میں چھوڑیں اور ننگے پیر آزادی کے مسافر بن گئے۔میں ان دیش بھگتوں کی بھی بات نہیں کر رہا جن دیش بھگتوں کو لطیف نے لاہوتی کہا ہے اور جن کا ٹھکانہ پہاڑوں کی چوٹیاں،محبوباؤں کے دل اور فقیروں کا رسالو ہوتا ہے۔وہ درد کے اور دیس کے مسافر ہوتے ہیں اور دل کے قریب ہو تے ہیں۔میں ان کی بات ہی نہیں کر رہا جو دیس پر وارے گئے اور دیس کے پہاڑوں کا رنگ گلاب کے پھولوں جیسا ہو گیا۔میں محبت کی بات،محبت کے دیس میں اور محبت سے کر رہا ہوں!
میں ان عاشقوں کی بات بھی نہیں کر رہا جنہوں نے ماں کے دودھ کی لاج رکھی اور آج دھرتی میں لہو سمیت سو رہے ہیں جن کے لیے لطیف نے محبت بھرا سلام بھیجا ہے کہ
”اکھیوں پیر کرے
محبوب ڈے وینجے!“
آنکھوں کو پیر بنا کے
محبوب کے پاس جاؤں!
میں ان عاشقوں کی بات نہیں کر رہا جن کا لہو آج دیس میں دیئے کی ماند جل رہا ہے اور ایک دو نہیں سیکڑوں بھونرے ان دیئیوں میں جلنے کو مر رہے ہیں،جو دیس کا لائیٹ ٹاور ہیں،جو دیس کا وچن ہے۔ایمان ہیں۔جن کے پیروں کی خاک سہاگنیں اپنے ماتھے کا سندور بناتی ہیں۔جن کی لہو آلود خاک سیکڑوں سہاگنوں کی مانگ کا سندور ہے۔جو دیس کم محبت زیا دہ ہے۔جو مٹی کم اور عشق زیا دہ ہے۔
اُس دیس کی مٹی کو محبت کس نے بنایا ہے؟اُس مٹی کو سراپا عشق کس نے بنایا ہے؟
انہوں نے جو زہیری سے لیکر تربت تک،کیچ سے دشت تک امانتاً سو رہے ہیں جب دیس پر آزادی کا سورج طلوع ہوگا تو محبوبائیں ان کے لہو لہو جسدِ خاکی کو ایسا بوسہ دیں گے جو ان کے شایان ِ شان ہوگا۔جب تک دیس ان کی محبت کا مقروض ہے!
ساحلوں پر محبت جنم لے رہی ہے۔پنکھ میٹھی بولی میں دیس کی محبت کے گیت گاتے ہیں۔چاند رُک انہیں سلام کرتا ہے جو دیس کی مٹی میں مل کر محبت ہوگئے۔دیس پر عشق کی بارش ہو رہی ہے۔ہر کوئی اس محبت والی بارش میں بھیگ رہا ہے۔پہاڑوں کی چوٹیاں اُونچی ہیں اور ان چوٹیوں پر سُرخ گلاب کھل رہے ہیں۔کیوں؟اس لیے کہ اس مٹی کا سفر طویل ہے۔اتنا طویل سفر جتنا سفر جوگیوں کا ہوتا ہے اور فقیر اپنی حسرت بھری نگاہوں سے ان جوگیوں کے پیروں کے نقش دیکھتے رہ جا تے ہیں ۔
جس دیس میں سفر نہیں،اس دیس میں محبت نہیں
بلوچ دھرتی نے بہت دکھوں والا سفر کیا ہے
اب اس دھرتی پر محبت اور آزادی کا سورج طلوع ہو رہا ہے
کچھ پہاڑوں سے
کچھ ساحلوں سے
کچھ بارشوں سے
کچھ کونجوؤں کے سفر سے
کچھ ماؤں کے آگے بڑھتے سفروں سے
اور کچھ سیمک کی صدا سے!
سیمک کی صدا میں ایسے ہی درد اور سوز نہیں بھرا
اس صدا میں سالوں کی تھکاوٹ اور سفر ہے
اس صدا میں دیس کے شہیدوں کا رنگ ہے
وہ لہو ہے جو پہاڑوں کی چوٹیوں سے بہا اور پہاڑوں کے دامنوں میں سُرخ گلاب پیدا کر گیا۔
سیمک وہ محبت کا بوسہ ہے جو دیش بھگت آدھے میں چھوڑ کر آزادی کی جنگ میں شامل ہوگئے۔
سیمک وہ محبت کا بوسہ ہے جو آزادی پسندوں نے دیس کی مٹی کو دیا اور مٹی پھولوں سے بھر گئی۔
ایسے ہی دیس سوز سے نہیں بھرا
اس دیس میں محبت کا جنم ہوا ہے اور محبت،محبت سوزاں ہو تی ہے
یہ سوال تو تشنہ ہی رہے گا کہ سیمک آزادی کے نغموں کی صدا ہے؟
سیمک لونجائینس کی وہ دعا ہے جو اس نے یونان کے لیے اپنے دیوتاؤں سے مانگی تھی اور وہ دعا بلوچ دھرتی کے حق میں مقبول ہوئی کہ
”اے باپ زیوس!اکییا کی اولاد کو اندھیرے سے بچا
ہمیں اچھا موسم دے
اور حکم دے کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں
دیس کی محبت،آبشاروں میں بہتے پانیوں کی آوازیں
ساحلوں پر محبت کے قدم،آکاش پر محبت میں اُڑتے پنکھ
اور سُریلی میٹھی آوازیں!“
اب بلوچ دھرتی اندھیروں سے بچ نکلا ہے
اور اب ہر کوئی اُس چاند کو دیکھ رہا ہے
جو سیمک ہے
جو بلوچ دھرتی کا ہمینیت کا چاند ہے
اور سیمک ان کی بدولت ہے جو کیچ سے زہری تک
اور بولان سے تربت تک امانتاً سو رہے ہیں
محبوباؤں کی دلوں میں
دیس کی مٹی میں
ناتمام!!
٭٭٭