جبری گمشدگیوں کیخلاف سوراب میں  دھرنا جاری ،موبائل فون وانٹرنیٹ سروسز بند

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری سے 12 افراد کی جبری گمشدگی و ایک کے قتل کیخلاف علاقہ مکین اور متاثرہ فیملی نے گذشتہ روز کوئٹہ، کراچی قومی شاہراہ پر دھرنا دیکر اسے مکمل طور پر بند کیاہے، جبکہ مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ دھرنا انکے پیاروں کی بازیابی تک جاری رہے گا۔

دھرنے سے ٹریفک مکمل معطل ہے ، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیںجبکہ پورے ضلع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی بندکردیئے گئے ہیں۔

زہری میں ریاست کی انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں 12 سے زائد افراد کی جبری گمشدگی اور 16 سالہ نوجوان کے ماورائے عدالت قتل کے بعد متاثرہ خاندانوں اور زہری کے مکینوں نے 3 مقامات پر دھرنا دیا تھا۔

زہری ٹاؤن کے اندر، زہری کراس انجیرہ پر، اور زیرو پوائنٹ سوراب پر N-25۔ گزشتہ روز زہری کراس انجیرہ سے مظاہرین نے سرد درجہ حرارت میں گھنٹوں پیدل مارچ کرتے ہوئے زیرو پوائنٹ سوراب پہنچے اور وہاں دھرنے میں ضم ہوگئے۔

اب زیرو پوائنٹ سوراب پر دھرنا جاری ہے اور کوئٹہ کراچی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بلاک ہے۔ اہل خانہ اور بی وائی سی نے مشترکہ طور پر واضح کیا ہے کہ تمام لاپتہ افراد کی بحفاظت رہائی تک احتجاج جاری رہے گا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ گزشتہ روز سی پی ای سی روڈ زیرو پوائنٹ سوراب پر دھرنے میں شامل ہوگئیں۔

اپنے خطاب میں، انہوں نے بلوچستان میں ریاستی نسل کشی کے خلاف وسیع تر قومی اتحاد اور لچک پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ مائیں، بہنیں، بچے اور بوڑھے شدید سردی میں سڑکوں پر انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم، ریاستی حکام میں انسانیت کا ذرہ برابر بھی فقدان ہے اور ریاستی تشدد کو جائز قرار دینے کے لیے بلوچوں کو غیر انسانی بنا دیا ہے۔

حکام کی جانب سے کوئی توجہ نہ دینے کے باوجود دھرنا مسلسل دوسرے روز بھی جاری ہے۔

Share This Article