تربت وتمپ میں پاکستانی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے دو الگ الگ پریس پریس ریلیز میں ضلع کیچ کے علاقے تربت اور تمپ میں پاکستانی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے بارہ جنوری کی رات ساڑھے سات بجے کیچ کے علاقے تمپ میں قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر حملہ کیا۔

حملے میں سرمچاروں نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرکے دشمن فوج کے تمپ کلات سر میں قائم کیمپ کے ایک مورچے کو نشانہ بنایا۔ جس سے دشمن کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوںنے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ جدید جنگی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہو کر قابض فوج کے خلاف اپنی کارروائیوں کو موثر اور منظم بنا رہی ہے۔ سرمچار جدید ٹیکنالوجی، گوریلا جنگی اصول، اور اسٹریٹجک پلاننگ کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کی نقل و حرکت کو محدود اور ان کے مواصلاتی نظام کو مفلوج کر رہے ہیں۔ یہ حکمت عملی دشمن کی صفوں میں خوف پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری مزاحمت کو مضبوط اور زیادہ نتیجہ خیز بناتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سرمچاروں نے بارہ جنوری بروز اتوار بمقام آبسر بلوچی بازار تربت میں قائم قابض پاکستانی فوجی کیمپ پر گرینیڈ لانچر کے متعدد گولے پھینکے جس کے نتیجے میں قابض فورسز کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا پڑا۔

انہو ں نے کہا کہ حملے کے بعد قابض فورسز کے اہلکاروں نے حواس باختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی لیکن بلوچ سرمچار بہترین گوریلا و جنگی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے مذکورہ مقام سے بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانے کی میں پہنچ گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ بی ایل ایف نہ صرف دیہاتوں میں بلکہ بلوچستان کے اہم شہروں میں گوریلا حکمت عملی کے تحت قابض فورسز کو نشانہ بنا کر نفسیاتی بیماریوں کا شکار بناچکی ہے جس کی وجہ سے حواس باختہ فورسز اہلکار عام عوام کو جعلی مقابلے میں قتل کرتے ہیں یا جبری گمشدگی کا نشانہ بناتے ہیں جو ان کی فطرت ہے اور ان کی یہ خوفزدگی شکست کی علامت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ قابض فورسز کو بلوچستان سے انخلاء تک ہر مقام پر نشانہ بنائینگے۔

Share This Article