بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ خضدار کی تحصیل زہری میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے 3 مقامی دکانداروں کو زبردستی اغوا کر لیا ہے جن کا کوئی پتہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنی حفاظت کے خوف سے متاثرہ خاندانوں اور مقامی کمیونٹی نے لیویز تھانہ زہری کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔ تمام لاپتہ افراد کی شناخت کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کیونکہ مواصلاتی لائنیں مکمل طور پر بند ہونے سے زمینی صورتحال کی معلومات تک رسائی روک دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اطلاعات ہیں کہ ایک دکاندار کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر لاپتہ ہیں۔
بی وائی سی کا کہنا تھا کہ ایک اور افسوسناک واقعہ میں زہری میں سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران سراج احمد ولد نذیر پندرانی نامی نوجوان کو بلا وجہ گولی مار کر شہید کر دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ قوم پر زور دیتی ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف آواز اٹھائیں اور مزاحمت کریں۔ اجتماعی اذیت کو اجتماعی مزاحمت میں بدلنا ہوگا۔