بلوچستان و سیستان میں رزاق منصوبے کا نیا ماڈل نافذ کرنے کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

دزاپ | مانیٹرنگ ڈیسک :

بلوچستان و سیستان میں قومی اور صوبائی اداروں کے اتفاق رائے سے اضافی ایندھن کی فروخت کے لیے جاری منصوبے "طرح رزاق” (رزاق منصوبہ) پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے ایک نئے ماڈل کے تحت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مہر خبر رساں ایجنسی کے مطابق، بلوچستان و سیستان کے استاندار ( گورنر) منصور بجار نے اپنے ابتدائی دنوں میں ہی ایندھن کے انتظام کے اس منصوبے کے جائزے کا حکم دیا تھا۔ نظرثانی کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس منصوبے کو ایک مختلف حکمت عملی کے تحت نافذ کیا جائے تاکہ سرحدی علاقوں کی صلاحیتوں سے مکمل فائدہ اٹھایا جا سکے اور بلوچستان کے شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

قومی حکام کی منظوری کے بعد، اضافی ایندھن کی فروخت کے اس منصوبے کو نئے اور شفاف ماڈل کے تحت اسٹریٹجک کونسل، سپلائی کونسل، اور صوبائی نمائندوں کی اسمبلی کے تعاون سے نافذ کیا جائے گا۔ منصوبے پر عمل درآمد کے دوران قومی و صوبائی سطح پر ٹرسٹیز کی حمایت اور ریگولیٹری اداروں کی کڑی نگرانی یقینی بنائی جائے گی۔

رزاق منصوبے کے تحت سرحدی باشندوں کو اضافی ایندھن فراہم کرنے کے لیے خصوصی کارڈز جاری کیے گئے تھے، لیکن شفافیت کی کمی کے باعث یہ کارڈز عملی طور پر غیر مؤثر ثابت ہوئے۔ عوام کے مطابق، بعض علاقوں میں غیر شفاف طریقے سے ان کارڈز کا ڈیٹا جمع کر کے لوگوں کو معمولی فوائد دیے گئے، جن کا کوئی واضح مقصد سامنے نہیں آ سکا۔

بلوچستان میں ایندھن کے غیر قانونی کاروبار نے صوبے کی معیشت کو غیر متوازن کر کے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ رزاق جیسے منصوبے اگرچہ معیشت کی بحالی کے لیے کوئی مستقل حل نہیں ہیں، لیکن یہ وقتی طور پر غیر قانونی کاروبار کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ مافیا اور غیر قانونی سرگرمیوں پر سخت نظر رکھی جائے۔

نئے ماڈل کے تحت رزاق منصوبے کے اہداف میں شفافیت کو یقینی بنانا، مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچانا، اور بلوچستان کی معیشت کی بحالی شامل ہے۔ یہ منصوبہ تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جب اس کی نگرانی اور عمل درآمد مضبوط اور مستقل بنیادوں پر کیا جائے۔

Share This Article