بلوچستان کے علاقے قلعہ سیف اللہ میں مسلح افراد نےکی فا ئرنگ سے نو جوان ہلاک ہوگیا جبکہ اس کے ساتھی کواغوا کرلیا گیا۔
دوسری جانب ضلع خضدار کے علاقے زہری میں بم دھماکے اور فائرنگ کے بعد لیویز تھانہ، موبائل ٹاورمشینرز اور نادرا آفس کونذر آتش کردیا گیاہے۔
خضدار کے تحصیل زہری میں یکے بعد دیگرے بمب دھماکوں کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں ۔
زہری میں آج صبح مسلح افراد نے لیویز تھانہ، بینک، نادرا آفس پرحملہ کیا ۔
مسلح افراد نے لیویز تھانہ، موبائل نیٹ ورک کے ٹاور اور نادرا آفس کو نذر آتش کردیا اور سرکاری اسلحہ اپنے ساتھ لے گئے۔
دوسری طرف زہری کی جانب فورسز کا متعدد گاڑیوں پر مشتمل قافلہ روانہ ہوگیا ہے ۔ جبکہ موبائل نیٹ ورک بھی بند ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
لیویز اور ایف سی کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی ہے اور علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی کی نگرانی میں پولیس اور سیکورٹی فورسز نے تمام داخلی اور خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر دی ہے تاکہ حملہ آوروں کو پکڑا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلح حملہ آوروں کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے گی تاکہ اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
سیکورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں تلاشی کا عمل جاری ہے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
اس دوران، عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکام کے ساتھ تعاون کریں اور علاقے میں کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔
جبکہ ادھر ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے گوال اسماعیل زئی میںمسلح افراد کی فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک اور اس کے ساتھی کو اغوا کرلیا گیا۔
لیویز ذرائع کے مطابق قلعہ سیف اللہ کے علا قے گوال اسماعیل زئی میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے معسود خان ساکن گوال سمالزئی نامی نو جوان کو قتل کر دیا جبکہ اس کے ساتھی جمعہ رحیم کو اپنے ساتھ لے گئے۔
ہلاک نوجوان کی لاش کو ہسپتال منتقل کر کے ضابطے کی کا رروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری اور مغوی کی با زیا بی کے لئے کوششیں جا ری ہیں ۔