ٹرمپ کا کینیڈا کو51 ویں امریکی ریاست بنانے کی پھر پیشکش

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے مستعفی ہونے کے چند گھنٹے بعد، کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی اپنی پیشکش کی تجدید کی۔ اوٹاوا کی جانب سے ٹرمپ کی تجویز پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

جسٹن ٹروڈو نے اپنی بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت کے درمیان، حکمران لبرل پارٹی کے دباؤ میں پیر کو اپنے استعفیٰ کا اعلان کردیا۔ کینیڈا میں اس سال عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ کینیڈین وزیر اعظم نے تاہم کہا کہ وہ اس وقت تک وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے جب تک پارٹی نیا لیڈر منتخب نہیں کر لیتی۔

نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کے 2017-2021 کی اپنی پہلی مدت کے دوران بھی ٹروڈو کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں رہے، جب سے وہ 5 نومبر کو مار-اے-لاگو میں ٹروڈو سے ملے تھے تب سے ہی کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کا خیال پیش کر رہے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد وہ کئی بار اپنی سوشل میڈیا پوسٹس پر اس کا ذکر کرتے رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا، "کینیڈا میں بہت سے لوگ 51 ویں ریاست ہونے کو پسند کرتے ہیں۔ امریکہ اب ان بڑے تجارتی خسارے اور سبسڈی کا شکار نہیں ہو سکتا جس کی کینیڈا کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ جسٹن ٹروڈو کو اس کا علم تھا، اور انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔”

پیر کو ٹروڈو کے استعفیٰ کے بعد امریکی نومنتخب صدر نے کہا، "اگر کینیڈا امریکہ کے ساتھ ضم ہو جاتا ہے، تو وہاں کوئی ٹیرف نہیں ہو گا، ٹیکس بہت کم ہو جائیں گے، اور وہ روسی اور چینی جہازوں کے خطرے سے مکمل طور پر محفوظ ہوں گے جو ان کے ارد گرد مسلسل گھیرے ہوئے ہیں۔ ایک ساتھ، یہ کتنی عظیم قوم ہو گی!!!”

Share This Article