پاکستان میں افغان سفارتخانے نے دعویٰ کیا ہے حال ہی میں اسلام آباد میں موجود تقریباً 800 افعان شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
افغان حکام کی جانب سے جاری بیان میں گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر زیرِ حراست افغان شہریوں میں وہ افغان شہری بھی شامل ہیں جن کے پاس تصدیق شدہ ویزا، رجسٹریشن کا تصدیق نامہ پی او آر یا افغان سٹیزن کارڈ یعنی اے سی سی موجود تھے۔
تاہم پاکستان کی وفاقی انتظامیہ کی طرف سے وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ 183 افغان شہریوں کو دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد سے بےدخل کیا گیا ہے جبکہ حراستی مرکز میں موجود افغان شہریوں کی تعداد فقط دو بتائی گئی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے بغیر دستاویزات پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کو کہا تھا کہ وہ واپس افغانستان چلے جائیں ورنہ یکم جنوری سے ان کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی۔
افغان شہریوں کو 31 دسمبر تک کی ڈیڈ لائین دی گئی تھی۔
افغان سفارتخانے کا کہنا ہے کہ این او سی کے لیے لازمی شرائط اور ان کے جاری کیے جانے کے عمل کے حوالے سے مکمل طور پر وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے افغان شہریوں کی حراست اور ملک بدری کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
سفارتخانے نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کیسز میں ’137 افغان شہری ایسے ہیں جنھیں پاکستان سے نکال دیا گیا ہے کیونکہ ان کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہو چکی تھی، تاہم انھوں نے اس کی معیاد میں اضافے کے لیے درخواستیں دے رکھی تھیں اور ان کے پاس یو این ایچ سی آر یا شارپ کی جانب سے دیے جانے والے عارضی اجازت نامے موجود تھے۔‘
سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں مبینہ طور پر بغیر کسی وارنٹ کے لوگوں کی حراست، گھروں پر چھاپے اور افغان شہروں سے بھتہ لیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
افغان سفارتخانے نے اپنے بیان میں پاکستانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کو دیکھے۔
ایک افغان بزرگ شہری نے پشاور میں بی بی سی کو بتایا کہ کریک ڈاؤن یکم جنوری سے شروع کیا گیا ہے اس میں بڑی تعداد میں افغان شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ ان افغان شہریوں کو سرچ آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا جو اپنی قانونی دستاویزات دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔