چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح چین کے زیرِ انتظام تبت میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 95 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 130 افراد زخمی ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق تبت کے مقدس شہر شگاتزا میں مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے آنے والے زلزلے کی شدت 7.1 تھی اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کے بعد علاقے میں آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔
چینی فضائیہ نے علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
زلزلے کے جھٹکے پروسی ممالک نیپال اور انڈیا میں بھی محسوس کیے گئے۔ تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کو نیپالی حکام نے بتایا ہے کہ فی الحال نیپال میں زلزلے سے ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں۔
اس خطہ سے ایک فالٹ لائن گزرتی ہے جس کی وجہ سے یہاں زلزلے عام ہیں۔
شگاتزا کا شمار تبت کے مقدس ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ پنچن لامہ کی روایتی نشست ہے جو تبتی بدھ مت میں دلائی لامہ کے بعد دوسری اہم شخصیت مانے جاتے ہیں۔
زلزلہ مرکز کے نزدیک واقع علاقہ ٹنگری ماؤنٹ ایورسٹ پر جانے والے کوہ پیماؤں میں کافی مقبول ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق ٹنگری میں منگل کی صبح ماؤنٹ ایورسٹ دیکھنے جانے والے سیاحوں کے دورے منسوخ کر دیے گئے ہیں اور سیاحتی مقام مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سینٹر کے محقق جیانگ ہائیکون نے چین کے قومی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کو بتایا کہ 5 کی شدت کا ایک اور زلزلہ اب بھی آسکتا ہے تاہم کسی بڑے زلزلے کا امکان کم ہے۔
چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 6.8 تھی اور اس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔
سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیوز میں زلزلے کے نتیجے میں عمارتیں منہدم ہوتی دیکھی جا سکتی ہیں۔
چین کی فضائیہ نے متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔
علاقے میں پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔