ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اہم رکن محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے حکم کے ردعمل میں کہا ہے کہ ’ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کا ایرانی قوم پر کوئی اثر نہیں ہوا، یہ کوئی نعرہ نہیں ہے، ہم نے اسے ثابت کر دیا ہے۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر امریکیوں نے ایک بار پھر ہمارے ارادوں کا امتحان لیا تو ہم انہیں بڑا سبق سکھائیں گے۔‘
اتوار کو صحافیوں سے اپنے دورہ پاکستان اور جے ڈی وینس کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے قالیباف نے زور دیا کہ ’ہم نے شروع سے اعلان کیا ہے کہ ہمیں امریکیوں پر بھروسہ نہیں ہے۔ ہماری بے اعتمادی کی دیوار 77 سال پرانی ہے اور انھوں نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں مذاکرات کے وسط میں ہم پر دو بار حملہ کیا۔ لہذا وہ وہی ہیں جنہیں ہمارا اعتماد حاصل کرنا چاہیے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے بیانات اور آبنائے ہرمز کے بارے میں ان کے انتباہ کے جواب میں قالیباف نے کہا: ’اس طرح کی دھمکیوں کا ایرانی قوم پر کوئی اثر نہیں ہوتا، ہم نے ثابت کیا ہے کہ یہ نعرہ نہیں ہے اور دنیا نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ لڑیں گے تو ہم لڑیں گے اور اگر آپ منطق کے ساتھ آگے آئیں گے تو ہم منطق سے نمٹیں گے۔ ہم انھیں ایک بار پھر ایسی دھمکیوں کو آزمانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘