تربت دھماکے کے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کو چھپانے کی ان تھک ریاستی کوششیں جاری 

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے بہمن میں گذشتہ دنوں ہونے دھماکے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تاحال سامنے نہیں آسکی ہے۔

سرکاری حکام کی جانب سے ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ اس دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد کتنی ہے تاہم ابھی تک دھماکے میں ہلاک ہونے والے 4 افراد کی شناخت ہوئی ہے۔

دوسری جانب بی ایل اے نے اس دھماکے میں 47 اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

سینیچر کی شب حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جن لوگوں کی شناخت ہوئی ان میں نور خان، عبدالوہاب، اعجاز اور لیاقت علی شامل تھے۔

جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال تربت کے ایم ایس ڈاکٹر احمد بلوچ نے بتایا کہ سینیچر کی شب تک ہسپتال میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والے صرف 11افراد کو لایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر معمولی زخمی تھے۔

مکران انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے جن چار افراد کی شناخت ہوئی وہ بس کے اندر ہلاک نہیں ہوئے بلکہ بس کے باہر دھماکے کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ہلاک ہونے والوں میں سے ایک بلوچستان کانسٹیبلری کا اہلکار تھا۔

انھوں نے بتایا جن زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال طبی امداد کی فراہمی کے لیے منتقل کیا گیا وہ بھی بس کے باہر دھماکے کی زد میں آکر زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بس کے اندر ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں ابھی تک مقامی انتظامیہ کو معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے ۔

نجی کمپنی کے جس بس کے قریب دھماکہ ہوا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

مکران انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کراچی سے ایک سے زیادہ بسوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار آرہے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ان بسوں کے آگے اور پیچھے سکیورٹی تھی تاہم دھماکہ آخری بس کے قریب ہوا جس کی وجہ سے اس میں آگ بھڑک اٹھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’آگ کو بجھانے کے لیے فوری طور پر اقدام نہ ہونے کے باعث یہ بس مکمل طور پر جل گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ جن دو سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچا ان میں سے ایک سکیورٹی فورسز کی گاڑی تھی جس پر سگنل جیمرز لگے ہوئے تھے جبکہ دوسری گاڑی سیریس کرائمز انویسٹی گیشن یونٹ کوئٹہ کے ایس ایس پی ذوہیب محسن کی تھی جو کہ چھٹی پر تربت آئے ہوئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ان دونوں گاڑیوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا کیونکہ یہ دونوں اس بس سے کچھ فاصلے پر تھیں۔‘

اہلکار نے بتائے کہ دھماکے کے باعث دو موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کے علاوہ مکران پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کا نشانہ بننے والی بس نجی کمپنی کی تھی جس میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار تربت سے کراچی آرہے تھے۔

جبکہ بی ایل اے بھی یہی موقف اپنا رہا ہے کہ یہ ایک فوجی کانوائے تھا۔

بی ایل اے ترجمان کا کہناتھا کہ دشمن کا یہ فوجی قافلہ، جس میں پانچ بسیں اور سات فوجی گاڑیاں شامل تھیں، کراچی سے ایف سی ہیڈکوارٹرز تربت کی طرف جا رہا تھا۔ مجید بریگیڈ کے فدائی سنگت نے بارود سے بھری گاڑی قافلے سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں 47 فوجی اہلکار ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے۔

حملے میں ایک بس مکمل تباہ، دوسری جزوی طور پر ناکارہ اور ایک فوجی گاڑی مکمل خاکستر ہو گئی۔

Share This Article