افغان طالبان نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اچھے تعلقات کے خواہاں

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان کی عبوری حکومت کے نائب وزیرِ خارجہ نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی نئی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

شیر محمد عباس ستانکزئی نے ہفتے کو کابل میں ایک دینی مدرسے کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک جرات مند اور قوتِ فیصلہ رکھنے والے شخص ہیں۔

انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ طالبان حکومت ان کی زیرِ قیادت بننے والی امریکہ کی نئی حکومت سے اچھے تعلقات چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کی حکومت دوستی چاہے گی تو ہم بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے، دشمن ہمیشہ کے لیے دشمن اور دوست ہمیشہ کے لیے دوست نہیں ہوتے۔

طالبان نائب وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہم ماضی میں سوویت یونین سے لڑے اور اس نے لاکھوں افراد کو مارا۔ لیکن اب ہمارے روس کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو دوحہ معاہدے کا احترام کرتے ہوئے کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنا چاہیے۔

ستانکزئی نے زور دیا کہ امریکی حکومت افغانستان کے بینک کے اثاثے ریلیز کرے، طالبان رہنماؤں پر عائد پابندیاں ختم کرے اور افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔

عباس ستانکزئی نے مزید کہا کہ طالبان حکومت نے دشمنی کے دروازے بند کر دیے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ امریکہ کی نئی حکومت بھی ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے گی۔

طالبان نے امریکہ اور اتحادی فوج کے انخلا کے بعد 15 اگست 2021 کو کابل کا اقتدار سنبھالا تھا تاہم تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی تاحال ان کی حکومت کو دنیا کے کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

تاہم ایران، پاکستان، چین اور روس سمیت بعض ملکوں نے افغانستان کے سفارت خانوں کو طالبان کے مقرر کردہ سفارتی مشنز کے حوالے کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ صدر بائیڈن کو افغانستان سے امریکہ کے انخلا کے دوران ان کے بقول ہونے والی بدنظمی کے لیے تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

وہ طالبان پر بھی متعدد بار دوحہ معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کرچکے ہیں۔

Share This Article