امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کانگریس کو بتا گیا ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کو آٹھ ارب ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ہتھیاروں کی اس کھیپ کے لیے کانگریس کی ہاؤس اور سینیٹ کمیٹیوں سے منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔
امریکہ کی جانب سے یہ فیصلہ صدر جو بائیڈن کے عہدہ چھوڑنے سے محض 15 روز پہلے سامنے آیا ہے۔
واشنگٹن نے غزہ میں شہریوں کی ہلاکت کی وجہ سے اسرائیل کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کی اپیلوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔
اس سے قبل گذشتہ سال اگست میں امریکہ نے اسرائیل کو 20 ارب ڈالرز کے جنگی جہاز اور دیگر عسکری ساز و سامان کے فروخت کی منظوری دی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق نئی کھیپ میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، ہیل فرئر میزائل، آرٹلری گولے اور بم شامل ہیں۔
سنیچر کے روز اسلحے کی فروخت سے واقف ایک ذریعہ نے بی بی سی کو بتایا: ’صدر نے واضح کر دیا ہے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے شہریوں کا دفاع کرنے اور ایران اور اس کی پراکسی تنظیموں کی جارحیت کو روکنے کا حق حاصل ہے۔
امریکہ اسرائیل کو سب سے زیادہ ہتھیار فراہم کرنے والا ملک ہے۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، 2019 اور 2023 کے درمیان اسرائیل نے 69 فیصد بڑے روایتی ہتھیار امریکہ سے درآمد کیے ہیں۔