پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار بولان کریم کو 12 سال مکمل ہونے پر فیملی اور شہریوں کی جانب سے بلوچستان کے ضلع گوادر کے ساحلی شہر پسنی میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
لواحقین نے پسنی پریس کلب سے لیکر جے ایس بنک تک ریلی نکالی۔
ریلی میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
ریلی میں شامل مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جس پر بولان کریم سمیت دوسرے لاپتہ افراد کی بازیابی کے نعرے درج تھے۔
احتجاجی ریلی سے مظاہرین نے اپنے خطاب میں کہا کہ بولان کریم کو لاپتہ ہوئے آج 12 سال مکمل ہوگئے ہیں اور جو بچے اُس وقت بچے تھے اب وہ جوان ہوچکے ہیں لیکن بولان کریم ابھی تک بازیاب نہیں ہوسکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بولان کریم کی ماں 12 سال سے اس انتظار میں ہے کہ کب اُسکا بیٹا بازیاب ہوکر گھر آجائے گا اْور اس 12 سالوں میں اُسکی ماں اور بہنوں نے ایک اذیت ناک زندگی گزاری ہے ۔
مظاہرین نے کہا کہ ریاست تمام لاپتہ افراد کو رہا کرئے اگر وہ ریاست کے پاس نہیں ہیں تو اُنھیں بازیاب کرائے۔
مظاہرین نے بتایا کہ بلوچستان میں آئے روز شہری اور طالب علم لاپتہ ہورہے ہیں جو اس ملک کے شہری ہیں اُن کو ڈھونڈنا ریاست کی ذمہ داری ہے لوگ اگر گناہ گار ہیں تو ریاست اُنھیں اپنے ہی بنائے گئے عدالتوں میں پیش کرئے لیکن اس طرح سے بارہ بارہ سال تک طالب علموں کو لاپتہ کرکے اُن سے اُنکی زندگی کی خوشیاں چھین لینا ظلم ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بولان کریم سمیت بلوچستان کے تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔